Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دینیات

مومن بننا ہے تو قرآن سے رشتہ جوڑئے شیطان سے ناطہ توڑئے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 24 th Dec.

ابونصر فاروق

اسلام دنیا میں قیامت آنے سے پہلے تک موجود رہے گا،جب کہ اسلام پر عمل کرنے والے اصلی اورسچے مسلمانوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے چند افراد تک محدود ہو جائے گی۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام پر عمل کرنے والے ہی موجود نہ ہوں گے تو اسلام کیسے زندہ رہے گا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام پورا کا پورا قرآن مجید میں موجود ہے۔اور قرآن حکیم قیامت تک اپنی اصلی اور صحیح حالت میں موجود رہے گا اس کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔چنانچہ جو لوگ آج قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کے روادارنہیں ہیں، وہ قرآن کے احکام کو جانتے ہی نہیں ہیںاور اُن پر عمل بھی نہیں کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو قرآن کافر مشرک ، ظالم اورفاسق کہتا ہے چاہے وہ نام کے مسلمان ہی کیوں نہ ہوں۔یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں، خود قرآن کہہ رہا ہے۔پڑھئے:
(۱) ’’اے نبی! اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبر تم کو سناتے ہیں اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک ذکر(درس نصیحت) عطا کیا ہے، جو کوئی اس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے روز سخت بار گناہ اٹھائے گا اور ایسے سب لوگو ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے اور قیامت کے دن ان کے لئے(اس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ) بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا۔‘‘(طٰہٰ: آیت۹۹تا۱۰۱)
کہا جا رہا ہے کہ قرآن ذکر یعنی نصیحت کرنے والا کلام ہے۔ جو اس کلام سے منہ موڑ رہا ہے یعنی اس کو سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنا نہیں چاہتا وہ قیامت کے روز وبال میں گرفتار رہے گا۔جب اللہ کا یہ فیصلہ ہے تو نبیﷺ ایسے انسان کی شفاعت کیسے کر پائیں گے ؟
(۲) ’’اب اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے،جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں ان کی اس روگردانی کی پاداش میں ہم بد ترین سزا دے کر رہیں گے۔‘‘(انعام: ۱۵۷)
اس آیت میں بھی وہی بات دہرائی جا رہی ہے جو اوپر کہی گئی ہے۔
(۳) ’’کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو اور پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں اُن کی سزا اس کے سوااور کیا ہے کہ وہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں۔ اللہ اُن کی حرکات سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘(البقرہ: آیت ۵ ۸)
قرآن کی کچھ باتوں کو ماننا اور کچھ باتوں کو نہیں ماننا ایسا جرم ہے جس کے نتیجے میں دنیا اور آخرت دونوں میں مسلمان ذلیل و خوار ہوگا۔قرآن کے مطابق نماز پڑھنا، زکوٰۃ نہیں دینا۔دعا کرنا مگر ظلم اورگناہ سے نہیں بچنا۔ روزہ رکھنا اورتقویٰ سے محروم رہنا۔ حج کرنا مگردنیا داری میں بھی پڑے رہنا۔ یہ سب وہ باتیں ہیں کہ قرآن کی ایک بات ماننا اوردوسری بات نہیں ماننا۔
(۴) ’’اورجو میرے ذکر(قرآن)سے منہ موڑے گا اس کے لئے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ ‘‘(طٰہٰ : ۱۲۴)
قرآن سے منہ موڑنے کی ایک اور سزا یہاں یہ بتائی جارہی ہے کہایسا آدمی دنیا میں چاہے کتنی بھی دولت کیوں نہ کمالے، اُس کے گھر میں برکت نہیں ہوگی۔ وہ زندگی کی سچی خوشی سے محروم رہے گااور قیامت کے روز اندھا اٹھایا جائے گا۔
(۵) ’’چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو ۔ ………‘‘(انعام:آیت ۷۰)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہہ رہا ہے کہ جو لوگ اپنے دین کو کھیل تماشہ بنائے ہوئے ہیں، یعنی محرم میں تماشہ کرنا، مزار پر ڈھول باجے کے ساتھ چادر چڑھانے والا جلوس نکالنا،موئے مبارک کی زیارت کے نام پر میلہ لگانا اور کھیل تماشے کا انتظام کرنا۔جو لوگ ایسے بیہودہ کاموں میں لگے ہوئے ہیںاورشیطان اُن کو دھوکے میں ڈالے ہوئے ہے اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیجئے ، وہ سدھرنے والے نہیں ہیں۔ مگر اُن کو قرآن سنا کر نصیحت کرتے رہئے۔اسی حکم کے تحت میں بھی شروع سے آج تک قرآن کی آیتوں کے حوالے سے پڑھنے اور سننے والوں کو سمجھانے میں لگا ہوا ہوں۔
(۶) ’’اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب! میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانۂ تضحیک بنا لیا تھا۔‘‘(فرقان:آیت ۳۰)
اس آیت میں کتنی سنگین اورڈرانے والی بات کہی جا رہی ہے کہ جو لوگ قرآن کو ثواب کے لئے پڑھیں گے ہدایت کے لئے نہیں ، وہ گویا قرآن کومذاق بنا لیں گے ، اُن کے خلاف خود نبی ﷺ اللہ کے سامنے فریاد کریں گے کہ ان لوگوں نے نبی کی بات نہیں مانی اورقرآن کو پڑھ کر نہ سمجھا نہ عمل کیا۔ سوچئے ایسے لوگوں کی نبیﷺ شفاعت کریں گے اور اللہ تعالیٰ اُن کے گناہوں کو معاف کر کے اُن کو جنت کا پروانہ دے گا ؟
اب آگے دیکھئے جو لوگ قرآن کو پڑھیںگے، سمجھیںگے اوراُس پر سچے دل اور خلوص نیت سے عمل کریں گے اُن کے لئے کیا کیا خوش خبری نبیﷺ دے رہے ہیں۔
(۱) حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: قرآن کا ماہر ، قرآن کے لکھنے والے معزز اور پاکیزہ فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص قرآن مجید کواٹک اٹک کراوربڑی مشکل سے پڑھتا ہے اس کے لئے دُہرا اجر ہے۔ (بخاری ، مسلم)
ایسا آدمی جس نے قرآن کو دل لگا کر پڑھا اوراُس کی حکمت اور عقل مندی کی باتوں کو جان کر قرآن کا ماہر بن گیا تو وہ قیامت کے دن قرآن کے لکھنے والے معززاور پاکیزہ فرشتوں کے ساتھ کھڑا ہوگا۔جو لوگ بغیر سمجھے قرآن پڑھتے ہیں کیا اُن کو یہ خوش نصیبی ملے گی ؟
ایسا آدمی جس کو بچپن میں قرآن پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔ بڑی عمر میں اُس کو قرآن پڑھنے کا شوق ہوا، لیکن کوئی حافظ یا مولوی اُس کو قرآن پڑھانے کے لئے تیار نہیں ہوا کیونکہ وہ غریب محتاج تھا حافظ یا مولوی کو تنخواہ نہیں دے سکتا تھا۔اُس نے خود سے کوشش کر کے اٹک اٹک کر پڑھنا شروع کیاتا کہ قرآن کی باتیں جان کر اُن پر عمل کرے تو اُس کو دوگنااجر ملے گا۔
(۲) کسی نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا :حضرت محبوب العالمین ﷺکے عادات و خصائل کیسے تھے؟ انہوں نے فرمایا : قرآن شریف ہی آپ کا اخلاق تھا۔ (مسلم)
نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اچھے اخلاق والا مومن کامل ایمان کا مالک ہوتا ہے۔آج کوئی بھی حافظ، قاری، عالم ، فاضل ، مولانا یا مولوی ایسا دکھائی دیتا ہے جس کے متعلق کہاجائے کہ یہ آدمی بہترین اخلاق کا مالک ہے ؟ یعنی یہ ساری ڈگریوں کے بعد قرآن کی تعلیم سے محروم ہے اور اسی لئے اس کے پاس قرآن کا اعلیٰ اخلاق نہیں ہے۔
(۳) عبداللہ ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:حسد دو افراد کے سوا کسی سے جائز نہیں،ایک وہ جسے اللہ نے دولت سے نوازا اور وہ اُسے اللہ کی راہ میںخرچ کرنے کی توفیق دی۔دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ا(یعنی قرآن کا علم دیا)ور وہ اُس سے فیصلے کرتا ہے اورتعلیم دیتا ہے۔(بخاری، مسلم)
اس حدیث میں حسد کالفظ آیا ہے جس ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ یہاں حسد کا مطلب ہے رشک کرنا۔ یعنی کسی کی خوبی کو دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ کاش ہم بھی ایسے ہی ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے بہت سے معاملات میں اپنے کچھ بندوں کو کچھ دوسرے بندوں پر فضیلت عطا کی ہے۔جن کے پاس یہ نعمت نہیں ہے وہ دوسروں کودیکھ کر تمنا کرتے ہیں کہ کاش ہم بھی ایسے ہوتے۔ دوسری جگہ کہا گیا ہے کہ ایسا مت کرو۔چنانچہ یہاں نبیﷺ کہہ رہے ہیں حسد(رشک) کرنا جائز نہیں ہے مگر دو معاملے میں۔کوئی قرآن کا علم بانٹ رہا ہو یا دولت بانٹ رہا ہو۔کیا آج ایسے عالم دکھائی دیتے ہیں جو مفت میں لوگوں کو قرآن کا علم بانٹ رہے ہوں۔ہرحافظ پیسے لے کر قرآن پڑھاتا ہے۔ قرآن کا علم نہیں دیتا ہے۔اسی طرح کیا سرمایہ دار اپنی دولت محتاج اور مجبور بندوں پراس طرح بانٹ رہے ہیں کہ کوئی یہ تمنا کرے کہ کاش اللہ ہم کو بھی دولت دیتا تو ہم بھی ایسا ہی کرتے !
(۴) معاذ جہنیؓ رسول اللہ ﷺکا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص قرآن پڑھتاہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے، قیامت کے روز اُس کے والدین کو ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی ایسی ہوگی کہ اگر سورج بھی تمہارے گھروں میں اترآئے تو اُس کی روشنی کی برابری نہ کر سکے۔پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ جو شخص خود قرآن کے مطابق عمل کرنے والا ہے اُس پرا للہ تعالیٰ کی کیا کچھ عنایات ہوںگی۔(احمد، دارمی)
یہ بات تو مشہور ہے کہ قرآن کے حافظ کے ماں باپ کو قیامت کے دن نور کا تاج پہنایا جائے گا۔لیکن یہ ادھوری بات مشہورکر دی گئی اور اصلی بات چھپا دی گئی۔ہر حافظ کے ماں باپ کو نور کا تاج نہیں پہنایا جائے گا۔ صرف ایسے حافظ کے ماں باپ کو نور کا تاج پہنایا جائے گاجوقرآن پڑھ کر اُس کے مطابق عمل کرتا ہو۔ کیا ایسے حافظ دکھائی دیتے ہیں جو قرآن کی آیتوں کا معنی اورمطلب بھی جانتے ہوں۔نہیں یہ سب تو طوطے کی طرح ہیں جس کو رٹا دیا جاتا ہے اور وہ بولتا رہتا ہے جھوٹ مت بولو۔
قرآن سے غافل رہنے والوں کا کیا حشر ہوگا یہ بھی نبیﷺ بتا رہے ہیں:
(۶) زیادؓ بن ولید کہتے ہیں،رسول اللہ ﷺ نے ایک خطرناک بات کا ذکر کیا کہ ایسا وقت آئے گا جب علم مٹ جائے گا۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول علم کیوں کر مٹ جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھ رہے ہیں اور اپنی اولاد کو پڑھا رہے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنی اولاد کو پڑھاتے رہیں گے ؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اے زیاد میں تو تمہیں مدینہ کا انتہائی ہوش مند آدمی سمجھتا تھا، کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ یہود و نصاریٰ تورات اور انجیل کو کس قدر پڑھتے ہیں، مگر ان کی تعلیمات پر کچھ بھی عمل نہیں کرتے۔(ابن ماجہ)
اب دیکھئے یہاں سے وہ باتیں شروع ہو رہی ہیں جو پہلے قرآن کی آیتوں کے حوالے کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔نبیﷺ فرما رہے ہیں کہ ایسا وقت آئے گا جب قرآن کا علم اٹھا لیا جائے گا۔قرآن پڑھا تو جائے گا لیکن اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔سوچئے آج قرآن کو بغیر سمجھے بوجھے پڑھنے والے کتنے زیادہ ہیں، لیکن اس پر عمل کرنے والے نہیں ہیں۔یعنی وہ وقت آ گیا جب مسلمان یہودی قوم کی طرح اللہ کے عذاب کے حقداربن چکے ہیں۔کوئی عالم فاضل، مولوی مولانا مسلمانوں کو یہ بات بتا رہا ہے اور ہوش میں آنے کی تاکید کر رہا ہے ؟ مطلب یہ ہوا کہ شاید سارے عالم فاضل مولوی مولانا جاہل بن چکے ہیں اور قرآن کے علم سے محروم ہو چکے ہیں۔ عبد اللہ ابن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آخری زمانہ میں ایک قوم نکلے گی جس کے افراد نوعمراور سطحی عقل والے ہوںگے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن کی باتیں کریں گے لیکن وہ دین سے اُسی طرح نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر آر پار نکل جاتا ہے۔ (ترمذی)
آج قرآن پڑھنے کا رواج بہت زیادہ ہوچکا ہے۔قرآن کی عربی سکھانے کا پروگرام دنیا بھر میں چل رہا ہے۔جسے دیکھئے قرآن پرباتیں کررہا ہے۔بغیر سمجھے اور جانے قرآن خوانی کا پروگرام تو صدیوں سے چلتا چلا آرہا ہے۔ لیکن کیا یہ سب لوگ قرآن کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کو تیار ہیں ؟ اسی بات کی طرف نبی ﷺ نے پیشین گوئی کی ہے کہ قرآن حلق سے نیچے نہیں اترے گا یعنی قرآن پر عمل نہیں ہوگا۔
(۷) حضرت صہیب رومیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایا: وہ شخص قرآن پر ایمان نہیں لایا جس نے اُس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کر لیا۔ (ترمذی)کتنے مسلمان ہیں جو قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو جانتے ہیں اوراُس سے بچتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اُن کا مال کب حرام ہو جاتا ہے۔یہ حدیث بتا رہی ہے کہ ایسے سارے لوگ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔جب قرآن پر ایمان نہیں تو پھر کافر ہیں یا فاسق یا ظالم !!!
ۃضظژظضۃ
MOB:
8298104514

About the author

Taasir Newspaper