Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

مینگلور: اخلاقی پولس گیری کے نام پر غنڈہ گردی کی پھر ایک واردات ؛ بس میں سفر کر رہے مسلم مزدور پر سنگھی غنڈوں کا حملہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 16 th Dec.

مینگلور 16 دسمبر:ساحلی کرناٹک میں مورل پولیسنگ کے نام پر سنگھی اور ہندوتواوادی غنڈوں کی زیادتیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ آئے دن کسی نہ کسی بہانے سے مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور طلبہ پر حملے کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔تازہ معاملہ مینگلور کے قریبی علاقہ بنٹوال میں بس میں سفر کے دوران اسحاق نامی مسلم مزدور کے ساتھ پیش آیا ہے، جس میں بس کنڈکٹر کے علاوہ سنگھی غنڈوں کی ٹولی نے اسے ظالمانہ انداز میں پیٹ کر بری طرح زخمی کر دیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کل بدھ کے دن بہار سے تعلق رکھنے والے اسحاق (45 سال)ایک پرائیویٹ بس میں سفر کررہا تھا۔ بس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ بس میں کھڑی ہوئی ایک خاتون نے اپنا بیگ سیٹ پر بیٹھے اسحاق کے پاس سنبھالنے کے لئے تھما دیا۔ انسانی ہمدردی کے ناطے اس نے وہ بیگ تھام لیا اور پھر جب اپنا اسٹیشن آیا تو اس خاتون نے اسحاق کے پاس بیگ واپس لیا اور بس سے اتر کر چلی گئی۔اس کے تھوڑی دیر بعد بس کنڈکٹر نے اسحاق پر اس خاتون کے ساتھ نازیبا برتاو کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تکرار اور بد کلامی شروع کی اور اس پر حملہ کرنے کے علاوہ کچھ نوجوانوں کو فون کرکے بلایا اور اسحاق کو ان کے حوالہ کر دیا۔ مبینہ طور پرسنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ٹولی نے اسحاق کو ایک غیر آباد علاقے میں لے جا کر اس کے ہاتھ پیر باندھے اور بری طرح پیٹائی کی۔ پھر اس کے بعد پولیس کو طلب کرکے زخمی اسحاق کو ان کے حوالے کردیا۔اسحاق کا کہنا ہے کہ موقع پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں نے علاج کے لئے اسے بنٹوال سرکاری اسپتال میں لے جانے کے بعد اس پر دباو بنایا کہ اس کی پیٹھ پر زخموں کے جو نشان ہیں اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتائے۔ اس طرح پولیس نے بھی متاثرہ شخص کی مدد کرنے کے بجائے حملہ آوروں کے خلاف کیس داخل کرنے کے سلسلے میں بھی آنا کانی کی اور سوو موٹو کیس درج کرنے سے انکار کردیا۔مگراس حملے اور مارپیٹ کا ویڈیو اب سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے اور عوام سوشیل میڈیا پر ساحلی کرناٹکا بالخصوص ضلع دکشن کنڑا میں اخلاقی پولس گیری کے نام پر بڑھتی غنڈہ گردی اور پولس نیز ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ظالموں کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر سوال اْٹھارہے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper