Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

نئے سال پردارالحکومت میںزبردست ٹھنڈ کا اثر

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 30th Dec.

نئی دہلی،30دسمبر:راجدھانی دہلی اور این سی آر میں دھوپ کی وجہ سے جمعہ کو بھی سردی سے کچھ راحت ملی ہے۔ لیکن سردی سے مہلت زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی سردی کی اذیتیں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے اگلے 7 روز کے لیے ا یلو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ 4 جنوری تک صبح کے وقت گھنی دھند پڑ سکتی ہے۔ پارہ 4.0 ڈگری تک جا سکتا ہے۔ دہلی میں آج کم سے کم درجہ حرارت 8.0 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ دن کے دوران زیادہ سے زیادہ 23 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔آئی ایم ڈی کے مطابق دہلی سمیت پورا شمالی ہندوستان اس وقت ویسٹرن ڈسٹربنس کے زیر اثر ہے اور خلیجی خطے سے چلنے والی گرم نم ہواؤں نے یہاں کے لوگوں کو سردی سے کچھ راحت دی ہے۔ تاہم ماہرین موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ قومی راجدھانی میں 31 دسمبر سے کم از کم درجہ حرارت ایک بار پھر گرنا شروع ہو جائے گا۔ جمعرات کو دہلی کے اہم موسمیاتی مرکز صفدرجنگ آبزرویٹری میں کم سے کم درجہ حرارت سات ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ ہفتہ کو کم سے کم درجہ حرارت چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے گا جبکہ پیر (2 جنوری) کو پارہ چار ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے۔ اس نے پیش گوئی کی ہے کہ یکم سے 4 جنوری تک دہلی کے مختلف حصوں میں گھنی دھند اور سردی کی لہر کا امکان ہے۔دارالحکومت میں موسم سرما زوروں پر ہے۔ رات کو شدید سردی کے باوجود کئی لوگ سڑکوں کے کنارے یا کھلی جگہوں پر سونے پر مجبور ہیں۔ اس دوران 23 سے 28 دسمبر کے درمیان 10 افراد کھلے مقامات پرلاوارث حالت میں پائے گئے ہیں۔ فی الحال ان کی شناخت بھینہیں ہو سکی ہے۔ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی۔ لیکن چونکہ کوئی بیرونی چوٹ نہیں تھی اس لیے موت کی وجہ سردی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 25 سے 65 سال کے درمیان معلوم ہوتی ہیں۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ نارتھ ایونیو، قرول باغ، کشمیری گیٹ، کوتوالی، ماریس نگر، سبزی منڈی اور پنجابی باغ تھانے کے علاقوں میں ملی لاشوں کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی شناخت کے بعد ہی یہ پتہ چل سکے گا کہ وہ بے گھر تھے اور کھلے میں سوتے تھے۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اموات سردی کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ دہلی میں بے گھر لوگوں کی بڑی تعداد ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر کھلے میں سوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں کھلے میں سونے والوں کی تعداد کے پیش نظر یہ انتظامات کافی نہیں ہیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جنوری میں سردی مزید بڑھی تو اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ گزشتہ سال ایک این جی او نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوری میں 28 دنوں کے اندر 172 بے گھر افراد کی موت ہوئی تھی۔ این جی او نے دعویٰ کیا کہ دہلی گیٹ، آصف علی روڈ، چاندنی چوک، جامع مسجد، یمنا بازار، نگم بودھ گھاٹ، یمنا پشتہ، کشمیری گیٹ، آزاد پور، بادلی، اوکھلا، نظام الدین اور سرائے کالے خان وہ علاقے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ کھلے میں سوتے ہیں ان کے علاوہ لوگ سڑک کے کنارے سوتے بھی پائے جاتے ہیں۔ یہاں صرف 253 شیلٹر ہوم ہیں، جہاں صرف 18537 لوگوں کی رہائش ہے۔

About the author

Taasir Newspaper