Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

نگجوں تنظیموںنے کلعدم ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 27th Dec.

اسلام آباد،27دسمبر:تحریک طالبان پاکستان نے بلوچستان اور خیبر پختونخواصوبوںمیں اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کوبڑھایا ہے اور اس کلعدم تنظیم کو تقویت ملی کیونکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی جنگجوں تنظیمیوں نے اس میں شرکت کی ۔ ایک اطلاع کے مطابق بلوچستان کے مکران ضلع کے جنگجوں گروپ مزار بلوچ کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہوگیا ۔ اس کی تصدیق کلعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے دی ۔ یہ بلوچستان کی دوسری جنگجو تنظیم ہے جس نے ٹی ٹی پی میں شرکت کی ۔ ابتک چھوٹے بڑے 22تنظیمیوں نے اس میں ضم ہوگئیں ہیں جس سے اس کی طاقت میں بے تحاشہ اضافہ ہو ا ہے اور اسی وجہ سے دسمبر مہینے میں ہرروز دہشت گردانہ حملے پاکستان میں رونما ہوئے۔ تحریک طالبان نے جنگ بندی کو پہلے ہی ختم کیا اور اپنے جنگجوئوں کو ہدایت دی کہ وہ سیکورٹی اہلکاروں اور سرکاری افسروں کونشانہ بنائے۔ چونکہ فوج نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیاں ختم نہیں کی اس لئے حملوںمیں تیزی لائی گئی ۔ پاکستان کے تمام علاقوںمیں حملے جاری رہیں گے۔ اس دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ دہشتگری کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ اور دہشت گردوں کے ارادوں کو ناکام بنائے گے۔ امریکہ ،سعودی عرب اور دوسر ے ملکوںنے اپنے سفارتکاروں کوہدایت دی کہ وہ دہشت گردوں کے حملوں کے پیش نظر احتیاط برتیں۔ تحریک طالبان نے بنوں میں ایک حراستی مرکز پر حملہ کیا تا کہ وہاں پر قید یو ںکو رہا کرسکیں۔ اس میں 70سے زیادہ جنگجوںنے حصہ لیا اور وہاں پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا ۔ بعد ایک کمانڈو کارروائی میں اس حراستی مرکز کو خالی کرایا گیا لیکن اس میں کئی اہلکار مارے گئے۔ برطانیہ اور آسٹریلیا نے بھی اپنے باشندوں کو یہ ہدایت دی کہ و ہ غیر ضروری نقل وحمل سے پرہیز کریں ۔ حکومت نے سفارتخانوں کی سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ اسلام آباد کے اردگرد 25سے زیادہ سیکورٹی چیک پوسٹ لگائے گئے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper