Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

وائی ایس آر سی پی اور ٹی ڈی پی کے کارکنان کے درمیان پرتشدد تصادم، دفعہ 144 نافذ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 17 th Dec.

امراوتی، 17 دسمبر:آندھرا پردیش میں وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی کی پارٹی وائی ایس آر سی پی اور تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے حامیوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے حامیوں کے درمیان یہ جھڑپ جمعہ کی دیر رات پلناڈو ضلع کے مچریلا علاقے میں ہوئی۔ اس دوران پتھراؤ، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات ہوئے۔ دونوں جماعتوں کے حامیوں نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ پرتشدد تصادم میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ رات گئے ہنگامہ آرائی کو دیکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔اس دوران پولس نے تلگودیشم لیڈر جولاکانتی برہما ریڈی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پلاناڈو کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وائی روی شنکر ریڈی نے کہا ’’مجرمانہ پس منظر والے لوگوں نے احتجاج میں حصہ لیا اور جان بوجھ کر پتھراؤ کیا۔‘‘ایک پولیس افسر نے کہا، ’’یہ دو حامیوں کے درمیان کوئی سیاسی لڑائی نہیں ہے۔ یہ متعصبانہ حملے اس علاقے میں گزشتہ 20 سے 30 سالوں سے جاری ہیں۔‘‘ اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے تلاشی مہم بھی شروع کر دی ہے۔ پولیس نے کہا کہ حالات اب قابو میں ہیں اور ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس افسر روی شنکر نے کہا، ’’قصبے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ واقعے کے بعد دھڑے کے لیڈر سیاسی جماعتوں کا سہارا لے رہے ہیں اور ان میں سے بہت سے ماچیرلا شہر کے آس پاس کے گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ دونوں طرف سے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔‘‘ تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، صبح تک سب کچھ قابو میں ہو جائے گا۔خیال رہے کہ تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کی جانب سے جگن موہن ریڈی کی حکومت کے خلاف ریاست میں تحریک چلائی جا رہی ہے۔ مچریلا میں چل رہے احتجاجی مظاہرے کے دوران جمعہ کی شب وائی ایس آر سی پی کے کارکن بھی پہنچ گئے اور ان کی ٹی ڈی پی کارکنوں کے ساتھ نوک جھونک ہوئی۔ کچھ ہی دیر میں یہ نوک جھونک دونوں جماعتوں کے درمیان پرتشدد تصادم میں بدل گئی۔

About the author

Taasir Newspaper