Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

پرائیویٹ گاڑیاں بھی ا سکول کیب کے طور پر رجسٹرڈ کراسکیںگے ، جلد نافذ ہوگی اسکیم

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 17 th Dec.

نئی دہلی،17دسمبر:دہلی میں مجاز اسکول کیبس کی کمی کو دور کرنے کے لیے دہلی حکومت جلد ہی ایک نئی اسکیم لے کر آرہی ہے۔ اس کے تحت لوگ اپنی پرائیویٹ گاڑیوں کو بھی اسکول کیب کے طور پر رجسٹر کروا سکیں گے۔ اس کے لیے گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ کرانا ہوگا اور اس میں کسی مجاز وینڈر سے اسپیڈ گورنر لگانا ہوگا۔ گاڑی سی این جی سے چلنے والی ہونی چاہیے اور اس کی عمر 15 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکول کیب پالیسی کے تحت پہلے سے طے شدہ دیگر اصولوں پر بھی عمل کرنا ہوگا۔دہلی حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذرائع کے مطابق اس نئی اسکیم کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس پر قانونی مشورہ لینے کے لیے فائل محکمہ قانون کو بھیج دی گئی ہے۔ وہاں سے منظوری ملنے کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ ایک کابینہ نوٹ تیار کرے گا، جس پر حکومت کی منظوری ملنے کے بعد اس تجویز کو منظوری کے لیے ایل جی کو بھیج دیا جائے گا۔ جیسے ہی ایل جی کی منظوری مل جائے گی، اسکیم کے نفاذ سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد لوگ اپنی نجی گاڑیوں کو اسکول کیب کے طور پر رجسٹر کروا سکیں گے۔اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسکول کیب آپریٹرز نے اس اسکیم پر جلد عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ کی ٹیموں کی جانب سے ان کے خلاف چالان جاری کرنے یا گاڑیوں کو ضبط کرنے کی کارروائی کو روکا جاسکے۔ دہلی میں اس وقت تقریباً 35,000 گاڑیاں اسکول کیب کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں، لیکن ان میں سے صرف 8,500-9,000 گاڑیاں ہی پیلے رنگ کی کمرشل نمبر پلیٹوں والی مجاز اسکول ٹیکسیاں ہیں۔ نئی اسکیم کے متعارف ہونے کے بعد اب ان پرائیویٹ گاڑیوں کو اسکول کیب میں بھی تبدیل کیا جا سکے گا اور مجاز طریقے سے چلایا جا سکے گا۔اسکول ٹرانسپورٹ ایکتا یونین کے صدر رام چندر نے کہا کہ 2017 سے نئی گاڑیوں کو اسکول کیب کے طور پر رجسٹر نہیں کیا جا رہا ہے۔ قواعد کے مطابق ا سکول کیبس کی رفتار کی حد 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جب کہ کمپنی نئی گاڑیوں میں اسپیڈ گورنر لگا کر صرف 60 یا 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار مقرر کر سکتی ہے، اس سے کم نہیں۔ اس وجہ سے نئی گاڑیوں کو سکول کیب کے طور پر رجسٹر نہیں کیا جا رہا تھا اور نہ ہی نجی گاڑیوں کو سکول کیب میں تبدیل کرنے کی کوئی اسکیم تھی۔ ایسے میں سکول کے بچوں کو پرائیویٹ گاڑیوں میں لے جانے کا کام کرنے والوں کے چالان کاٹے جا رہے ہیں یا ان کی گاڑیاں ضبط کی جا رہی ہیں۔ اب نئی سکیم کے آنے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

About the author

Taasir Newspaper