Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

پنجابی باغ فلائی اوور کو چوڑا کرنے کا کام شروع

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14 th Dec.

نئی دہلی،14دسمبر:دارالحکومت دہلی کے دھولا کنواںسے آزاد پور تک رنگ روڈ کے 17 کلومیٹر طویل حصے پر جام کو ختم کرنے کے لیے، پنجابی باغ فلائی اوور کو گرانے اور دوبارہ تعمیر کرنے کے منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے۔ اس وقت پرانے فلائی اوور کو گرایا جا رہا ہے، گرانے کا کام گزشتہ ماہ شروع ہوا تھا۔ فلائی اوور کا ایک حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔ اس پر چل رہے کام کی وجہ سے فلائی اوور کے اوپر اور نیچے روزانہ کے اوقات میں جام کا مسئلہ بھی بڑھ گیا ہے۔ کلب روڈ کے قریب فلائی اوور کے نیچے کا یو ٹرن بھی بند کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے جام کا مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے۔پنجابی باغ فلائی اوور ایک دو لین والا سنگل وے فلائی اوور ہے، جس میں پہلے سے ہی فلائی اوور کے نیچے اور اوپر دونوں اوقات میں ٹریفک جام کے مسائل تھے۔ اس مسئلے کو ختم کرنے کے لیے اسے 2 لین سے بڑھا کر 6 لین کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اب اس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ فلائی اوور کا سنگ بنیاد بھی رواں سال ستمبر میں رکھا گیا تھا۔ فلائی اوور کی تعمیر کا کام 18 ماہ میں مکمل ہونا ہے۔ پنجابی باغ فلائی اوور کے ساتھ راجہ گارڈن فلائی اوور کی چوڑائی بھی بڑھائی جانی ہے۔ اسے 2 لین سے بڑھا کر 6 لین فلائی اوور کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ لیکن اس فلائی اوور کو نہیں گرایا جائے گا۔ موجودہ فلائی اوور کے ساتھ ایک نیا 444 میٹر لمبا فلائی اوور بنایا جائے گا۔ابتدائی طور پر منصوبہ یہ تھا کہ پنجابی باغ فلائی اوور کے متوازی دوسرا فلائی اوور بنایا جائے گا اور لمبائی بھی بڑھائی جائے گی۔ لیکن جب کام شروع ہوا تو استحکام کا مسئلہ شروع ہوگیا۔ کنسلٹنٹ نے مشورہ دیا کہ موجودہ فلائی اوور کے کچھ حصے کو گرانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ پورے فلائی اوور کو گرا کر 1.05 کلومیٹر طویل 6 لین چوڑا نیا فلائی اوور تعمیر کرنا ہو گا۔ کنسلٹنٹ کی تجویز کے بعد ای ایس آئی اسپتال سے کلب روڈ تک پورے فلائی اوور کو گرانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ فلائی اوور کا ایک حصہ تقریباً منہدم ہو چکا ہے۔ باقی فلائی اوور کو بھی اگلے 15-20 دنوں میں گرا دیا جائے گا۔فلائی اوور کا ایک حصہ ٹوٹنے کے بعد اب صرف ایک لین والا فلائی اوور رہ گیا ہے جس سے فلائی اوور پر روزانہ جام کا مسئلہ شروع ہو گیا ہے۔ موتی نگر میں واقع راجہ گارڈن اور پنجابی باغ فلائی اوور سے روزانہ تقریباً 1.25 لاکھ گاڑیاں گزرتی ہیں۔ اس سلسلے میں ٹریفک کے شدید دباؤ اور کام کی وجہ سے جام کا مسئلہ بڑھ گیا ہے۔ کلب روڈ کے قریب فلائی اوور کے نیچے کا یو ٹرن بھی بند کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں جام کی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔ اگلے چند ماہ تک رنگ روڈ کے اس حصے سے گزرنے والوں کو ٹریفک جام کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper