Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

گیا میں بدمعاشوں کی کھلے عام غنڈہ گردی، لوگوں میں خوف

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 28th Dec.

گیا، 28 دسمبر: بہار کے گیاضلع میں فلمی انداز میں بدمعاشوں کا گروپ رات کو اسلحہ کے ساتھ کھلے عام گھوم رہا ہے۔ اس کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں اسلحہ سے لیس بدمعاشوں کا ایک گروپ راستے میں ملنے والے لوگوں کی پٹائی کر رہا ہے۔ ویڈیو میں ایک نوجوان ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہہ رہا ہے کہ ‘ا?ئی ایم ا?تنک وادی، مجھ سے ڈرو، راستے میں جو بھی ملے مارو۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ گیا شہر کے ڈیلہا تھانہ علاقے کا ہے۔یہ ویڈیو کل رات کا بتایا جارہا ہے۔ یہ ویڈیو بدمعاشوں نے خود بنائی اور ان کے گروپ کے ایک رکن نے اسے وائرل کر دیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بدمعاش کھلے عام اسلحہ لہراتے ہوئے پیدل گھوم رہے ہیں۔ تقریباً تین منٹ کی اس ویڈیو میں بدمعاش اپنے ا?پ کو علاقے کا غنڈہ کہتے ہوئے نظر ا?رہے ہیں۔ اس دوران بدمعاشوں کے سامنے جو بھی شخص نظر ا?یا اسے انہیں لات۔ گھونسوں سے مارا جا رہا تھا۔
وائرل ویڈیو میں سنجو بابا اور سنی بابا کا راج علاقے میں ہونے کی بات بھی کہی جارہی ہے۔ تقریباً نصف درجن کی تعداد میں نظر ا?نے والا بدمعاشوں کا گروپ کس مقصد سے اسلحہ لہراتا ہوا گھوم رہا تھا۔ اس طرح کے معاملات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ ویڈیو میں نظر ا?نے والے کچھ بدمعاش ا?پس میں باتیں بھی کر رہے ہیں۔ جس میں کئی طرح کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ ڈیلہا تھانہ انچارج ببن بیتھا نے بتایا کہ گزشتہ رات کو کچھ نامعلوم افراد نے مارپیٹ کی واردات انجام دیا، لیکن یہ لوگ اسلحہ کے ساتھ گھوم رہے تھے جس کا ویڈیو وائرل ہورہا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ فی الحال وائرل ویڈیو کی چھان بین کی جارہی ہے جلد ہی ان بدمعاشوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق مارپیٹ کا واقعہ گزشتہ رات پیش ا?یا تھا۔ لیکن بدمعاشوں کا کوئی ویڈیو وائرل ہوا ہے، یہ ان کے نوٹس میں نہیں ہے۔ فی الحال وائرل ویڈیو کی چھان بین کرکے واقعے میں ملوث بدمعاشوں کی شناخت کی جارہی ہے، تاکہ انہیں گرفتار کیا جاسکے۔

About the author

Taasir Newspaper