Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

یہ صرف سیاست نہیں تو اور کیا ہے ؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 15 th Dec.

بہار کے ضلع سارن کے مشرخ میں زہریلی شراب پینے سے ہوئی موت پر سیاست شروع ہو گئی ہے۔اس ایشو پربی جے پی کے ذریعہ حکومت کو بہار اسمبلی سے لیکر سڑک تک گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس معاملے کو اپوزیشن نےاتنی ہوا دی ہے کہ اس سلسلے میں عام لوگ بھی چوک چوراہے پر چرچا کرنے لگے ہیں۔جتنے منھ اتنی طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔کوئی کہہ رہا ہے بہار میں شراب پر پابندی کے بعد ایک نیا معاشی نظام وجود میں آگیا ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شراب کی اسمگلنگ کا بہت بڑا نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ یہ بات بھی سننے میں آ رہی ہے کہ شراب مافیاکچھ پولیس والوں کے ساتھ مل کر بہار میں متوازی نظام چلا رہے ہیں اور بہار کے ریونیو کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ پیسے کے لالچ میں لوگوں کو زہر کھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
ان دنوں دارالحکومت پٹنہ میں کسی بھی چائے کی دکان پر بیٹھنے پر، عموماََ اسی طرح کی گفتگو سننے کومل رہی ہے۔ چرچا یہی ہے کہ بہار میں شراب بندی کے بعد شراب مافیا اپنا کام دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ شراب وافر مقدار میں، جب چاہیں اور جہاں چاہیں دستیاب ہے۔اسی بھیڑ میں نقلی شراب کی خرید و فروخت کا دھندہ بھی پھل پھول رہا ہے۔اسی وجہ سے لوگ مر بھی رہے ہیں۔ بہار کے سارن ضلع کے مشرخ میں صرف دو دنوں کے اندر تین درجن سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے دیسی شراب پی رکھی تھی۔ شراب سے ہوئی اس موت کا اثر بہار قانون ساز اسمبلی کے اندر بھی نظر آرہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو یہ باتیں اچھی نہیں لگ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موت پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔لیکن اپوزیشن کے اراکین شراب بندی کے قانون کے نفاذ کی صورتحال پر لگاتار بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔ حکومت فطری طور پر اپنا دفاع کر رہی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ بہار میں شراب بندی کا قانون ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے نافذ کیا گیا تھا۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان اموات کے بعد جو زندگیاں تباہ ہوئیں، جو خاندان تباہ ہوئے ان کا ذمہ دار کون ہے؟ لیکن اس سوال کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ جو شراب پئے گا وہ مرے گا ہی۔وزیر اعلٰٰی نتیش کمار کا بھی یہی کہنا ہے۔یہ بات سوچنے کی ہے کہ بہار میں شراب بندی اس لئے نافذ کی گئی ہے کہ شراب کی وجہ سے غریبوں کے گھر نہیں اجڑیں۔وزیر اعلیٰ بار بار یہ بات کہتے رہے ہیںکہ میں نے بہار میں شراب بندی قانون کو جیویکا سے جڑے ، سیلف ہیلپ گروپس کی غریب خواتین کی تحریک پر نافذ کیا ہے۔یہ کامیابی کے ساتھ نافذ رہے اس کے لئے انتظامی سطح پر کارروائی تو ہوتی ہی رہی ہے اس کے لئے عوام کو بھی بیدار کرنے کی کامیاب کوششیں ہوتی رہی ہیں۔حالانکہ اس قانون میں طرح طرح کی خامیاں گنا کر اس کو منسوخ کرنے کا دباؤ مسلسل حکومت پر بنانے کا کام بھی ہوتا رہا ہے۔خود عظیم اتحاد کی ایک حلیف جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی بھی بار بار اس قانون کو منسوخ کرنے کے لئے حکومت سے مطالبہ کرتے رہے ہیں۔لیکن یہ بھی ماننے کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے گھر، خاندان، سماج اور ریاست کی صحت پر کبھی کسی لیڈر کے بیان اور سیاسی دباؤ کو ترجیح نہیں دی ۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کا رویہ کتنا مستحکم ریا ہے ،اس کو گزشتہ 14 دسمبرکو بہار اسمبلی کے سرمائی اجلاس میںان کا تیور ہی بتا رہا تھا۔اس کے باوجود چوری چھپے شراب پینےسے تقریباََ 40 افراد کی موت کے لئے وزیر اعلیٰ کو ذمہ داربتانے، ان سے استعفیٰ مانگنے اور ریاست میں صدر راج نافذ کئے جانے کے مطالبے کے پیچھے صرف اپوزیشن کی سیاست نہیں تو اور کیا ہے ؟
واضح ہو کہ ریاست کے سارن ضلع کے مشرخ میں نقلی شراب پینے سے اب تک کی رپورٹ کے مطابق 40 افراد کی موت ہو چکی ہے۔2022 کے آغاز سے اب تک چھپرا میں شراب نوشی کی وجہ سے کم از کم 50 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ جنوری، 2022 میں مکیر اور امنور میںنقلی شراب پینے سے ایک درجن افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دوسری جانب اگست 2022 میں چھپرا کے پاناپور اور بھیلڈی میں نقلی شراب پینے سے 8 افراد کی موت ہو گئی تھی۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد سست انتظامیہ تھوڑی متحرک ہو جاتی ہے۔ لیکن دو چار گرفتاریوں کے بعد پھر سارا معاملہ رفع دفع جاتا ہے۔ شراب پینے والے خاندان کے لوگ ڈر کے مارے شراب مافیا کے خلاف بات نہیں کرتے ہیں۔ چنانچہ پھر وہی دھندہ شروع ہو جاتا ہے۔جانکار لوگ بتاتے ہیں کہ جو شراب سستے کیمیکل اور نوشادر کے علاوہ یوریا ملا کر بنائی جاتی ہے، وہ خود بخود زہریلی ہو جاتی ہے۔ پھر بھی شراب مافیا ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اورمقامی پولیس کی ملی بھگت سے موت کا کاروبار جاری ہے۔شراب مافیا اور مقامی پولس کی سانٹھ گانٹھ کو توڑے بغیر حکومت کو اس صورتحال پر قابو پانے میں بہر حال دشواری تو ہوگی ہی۔
*****************

About the author

Taasir Newspaper