Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

اقرا انٹرنیشنل اسکول میں یوم جمہوریہ کی مناسبت سے رنگارنگ تقریب کا شاندار انعقاد

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 25th Jan.

نئی دہلی: ۲۵؍جنوری :جنوبی دہلی میں واقع مشہور دانش گاہ اقرا انٹرنیشنل اسکول میں یوم جمہوریہ کی مناسبت سے ایک رنگارنگ تعلیمی و ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں اسکول کے طلباء و طالبات نے متنوع علمی و ثقافتی ، حب الوطنی سے لبریز اور قانون و اخلاق کی بالادستی کو قائم رکھنے جیسے اہم پروگرام پیش کئے ۔ اس پروگرام میں علاقہ و اطراف سے معزز حضرات اور گارجینس کی بھاری تعداد حاضر ہوئی تھی۔
اس پروگرام کی ابتداء سمائرہ کلاس پنجم کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی جس کا اردو اور انگریزی ترجمہ ان کی سہیلی طالبات نے پیش کیا۔اس کے بعد اسکول کی ایک طالبہ صوفیہ کلاس ہشتم نے سامعین کے سامنے قانون کی پاسداری اور وطن سے محبت پر مبنی ایک حدیث پیش کی جس کا اردو اور انگریزی ترجمہ پیش کیا ۔اس کے بعد مختلف مفید اور معنیٰ خیز پروگرام پیش کئے گئے جسے سامعین نے دل کھول کر سراہا اور طلباء کی کامیابی کے لئے دعائیں کی۔ یوم جمہوریہ کی مناسبت سے عزیزہ اقرا کلاس چہارم نے اردو میں تقریر پیش کی تو اسکول کے تعارف پر مبنی انگلش زبان میں ایک تقریر آٹھویں جماعت کی طالبہ شیزہ نے پیش کی۔ نرسری کلاس کے شاہین صفت بچوں نے ’’ہم ننہے منہے راہی ہیں‘‘ پر بہت خوبصورت انداز میں پرفارم کیا۔ سچائی کا پھل کے عنوان نے ایک خوبصورت ڈرامہ پیش کیا گیا اور آئین ہند کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر مبنی ایک خوبصورت پروگرام آٹھویں کلاس کی طالبات نے پیش کیا۔ اس کے علاوہ طالبات کے ایک گروپ نے ترانہ ہندی ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ بہت ہی مترنم آواز میں پیش کیا ۔پروگرام کے اخیر میں قومی گیت ’’جن گن من ادھی نایک جئے ہے‘‘ کو طلباء کے ایک گروپ نے پیش کیا ۔
اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے تمام دیش واسیوں کو یوم جمہوریہ کی مبارک باد پیش کی اور کہا کہ یوم جمہوریہ ہم ہندوستانیوں کے لئے جشن کا دن ہے کیونکہ اس دن ہمیں آئین نصیب ہوا۔ ہمارے ملک کا آئین سیکولر بنیادوں پراستوار ہے جہاں ہر مذہب کو ماننے اور فالو کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ گنگا جمنی تہذیب ہمارے وطن کے خمیر میں ہے اور ہمارے وطن کی ترقی کا راز اس بات میں ہی پنہاں ہے کہ ہم سبھی لوگ مل جل کر رہیں، قانون کا پالن کریں،اس کی بالادستی کو قائم رکھیں اور اس وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار نبھائیں۔
مولانا نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ آپ نے وطن پریم پر مبنی متعدد پروگرام پیش کئے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ آپ اپنے وطن کی تعمیر و ترقی کے تئیں سنجیدہ ہیں اور آپ کی تعلیم و تربیت میں وطن سے محبت کا عنصر بھرپور طریقے سے شامل ہے۔ آپ پڑھیں، بڑھیں اور خوب ترقی کریں تاکہ کل جب اس دیش کا زمام آپ کے ہاتھوں میں ہو تو یہ دیش صحیح سمت کی طرف ترقی کرے۔
اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ کے بانی اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرحضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ یوم جمہوریہ تجدید عہد کی دعوت دیتا ہے کہ ہم قانون کے پاسدار بنیں گے اور وطن کے آئین کے مطابق زندگی گزاریں گے کیونکہ ہر وہ آزادی جو قانون کے ساتھ مربوط نہ ہو انارکی، بدامنی اور فتنہ کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
آپ نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کے آئین سازوں میں بابا بھیم راؤ جیسا قانون داں، مولانا آزاد جیسا عبقری اور اعلیٰ دماغ، چچانہرو جیسا قابل ، بابائے قوم گاندھی جیسا عقل و خرد کا پتلا اور انسانیت نواز شامل تھے تبھی جاکر ایسا جامع اور اچھا قانون بنانا ممکن ہوسکا اور اس کا اثر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ملک خوشحال ہے،وطن عزیز میں سیاسی ناحیہ سے امن و استحکام ہے جبکہ بہت سے ممالک ایک جامع اور انسانیت دستور سے محروم ہیں۔
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ اس ملک کے مستقبل ہیں۔ آپ سے ملک و قوم اور ادارے کے ذمہ داران کی بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔ آپ اپنے مشن میں کامیابی کے لئے محنت سے کام لیں کیونکہ اگر آپ کامیابی کے پرچم گاڑتے ہیں اور دیش کا نام روشن کرتے ہیں تو یقین جانیں کہ آپ اپنے والدین، ادارہ اور سب سے بڑی بات اپنے مذہب کا سر اونچا کریں گے۔
ان کے علاوہ مولانا سعیدالرحمن نورالعین سنابلی اور مولاناعبدالمحسن سنابلی اور متعدد علمی شخصیات نے پروگرام کو خطاب کیا ۔ اس کے علاوہ پروگرام کے شرکاء میں مولانا ضیاء الرحمن تیمی، مولانا عبداللہ سلفی، شاہانہ تبسم، مہوش خان اور شاہانہ رئیس کے اسماء اہم اور قابل ذکر ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper