Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

امریکی پیٹریاٹ ملنے کے اعلان کے بعد جرمنی بھی پیٹریاٹ میزائل بیٹریز دینے پر تیار

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 7th Jan.

برلن،7جنوری:جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی امریکی پیروی کرتے ہوئے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بیٹریز دے گا۔ جرمنی کا یہ نیا اور غیر معمولی اعلان جرمن چانسلر اولاف شولز اور امریکی صدر جوبائیڈن کے در،میان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سامنے آیا ہے۔امکانی طور پر امریکہ کی طرف سے آج جمعہ کے روز یوکرین کے لیے 2،85 ارب ڈالر کی اہم ترین اور اب تک کے مہنگی ترین فوجی امدادی پیکج کی صورت میں سب سے بڑا پیکج ہو گا۔امریکہ کی طرف سے اس اہم ترین پیکج کا اعلان گزشتہ ماہ دسمبر میں کیا گیا تھا ، بعد ازاں یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی کے امریکی دورے کے دوران اس اعلان کو باضابطہ شکل دی گئی تھی۔یہ فوجی امدادی پیکج امریکہ کے جدید ترین پیٹریاٹ میزائلوں کے علاوہ محفوظ تر جنگی گاڑیوں پر مشتمل ہو گا۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پینٹاگون کے اسلحے کے سٹاک میں سے یوکرین کو دیا جانے والا یہ فوجی امدادی پیکج سب سے بڑا ہو گا۔ اب تک امریکہ کی طرف سے مجموعی طور پر بیس ارب ڈالر سے زائد مالیت کی فوجی وغیر فوجی امداد دے چکا ہے۔مزید برآں جمعرات کے روز امریکہ اور جرمنی کے سربراہان نے اس امر پر بھی اتفاق کے ساتھ زور دیا ہے کہ یوکرین کو روسی میزائل اور ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے جو بھی مزید جنگی، انسانی اور مالی وسائل درکار ہوں گے فراہم کیے جائیں گے۔دونوں سربراہان کی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران جرمن چانسلر شولز نے اتفاق کیا کہ یوکرین کے لیے امریکی پیٹریاٹ میزئل کی اس کھیپ کے ساتھ جرمنی بھی اضافی ڈیفنس بیٹریز فراہم کرے گا۔ اس بارے میں ایک مشترکہ بیان بھی پڑھا گیا۔علاوہ ازیں امریکہ اور جرمنی نے الگ الگ دیے گئے بیانات میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین کی انفنٹری کے لیے جدید ترین جنگی وہیکلز بریڈلی انفنٹری فائٹنگ وہیکلز اور مارڈر انفنٹری فائٹنگ وہیکلز دیں گے۔یوکرین کے لیے جرمنی کی طرف سے فوجی امداد کے اس اعلان کو جرمنی کی یوکرین جنگ کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس سے پہلے جرمنی ایسا کچھ کرنے کو تیار نہ تھا۔

About the author

Taasir Newspaper