Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

ایف سولہ لڑاکا طیاروں میں ترکیہ کی دلچسپی کیا ہے؟ امریکی سکیورٹی ماہر نے بتا دیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 20th Jan.

انقرہ ،20جنوری:ترکی نے ایک بار پھر امریکہ سے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی خریداری کا سودا طے کرنے کا کہا جو کہ تقریباً 5 سال قبل انقرہ کی طرف سے روسی ساختہ ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ امریکی لڑاکا طیاروں کے حصول میں ترک حکومت کی دلچسپی کا راز کیا ہے؟ اس حوالے سے گزشتہ دنوں ایک تنازعہ بھی پیدا ہوگیا تھا۔اگرچہ ترکیہ کے وزیر خارجہ میولیود چاوش اولو نے بدھ کو امریکی ہم منصف بلنکن کو اطلاع دی ہے کہ ان کے ملک کا سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت پر اپنے اعتراض کو ترک کرنا ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی فروخت کیلیے پیشگی شرط نہیں ہونا چاہیے۔تاہم عسکری ماہرین بتاتے ہیں کہ ترکیہ کی طرف سے مہینوں پہلے نیٹو میں دونوں ملکوں کے الحاق سے انکار نے ان لڑاکا طیاروں کے بارے میں ترک اور امریکی فریقوں کے درمیان بات چیت کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سیاسی اور سلامتی کے تجزیہ کار اور سیکیورٹی امور میں مہارت رکھنے والی ویب سائٹ ’’وارز آن راکس‘‘ کے چیف کنٹینٹ آفیسر ایرون سٹین نے ان وجوہات کا انکشاف کیا جن کے تحت ترکی کو 20 بلین ڈالر کے ایک منصوبہ بند معاہدے میں ایف سولہ لڑاکا طیارے کیوں حاصل کر لینا چاہئیں۔سٹین نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ترک فریق اس قسم کے لڑاکا طیارے حاصل کرنا چاہے گا کیونکہ جو ترک فوج کے پاس دستیاب ہیں وہ پرانے ہو چکے ہیں اور اسے کئی دہائیوں تک ایف سولہ استعمال کرنے کے بعد آج نئے اور متبادل طیاروں کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترک فوج کے لیے اس نوعیت کے نئے طیاروں کی خریداری کو جاری رکھنے کا سب سے معقول آپشن ہے جب کہ اس نے پچھلی صدی کے اسی کی دہائی کے اوائل میں انھیں پہلی بار حاصل کیا اور بعد میں ان کے کچھ حصوں میں ترمیم بھی کی ہے لیکن انہیں حاصل کرنے کا فیصلہ فی الحال امریکی محکمہ خارجہ پر منحصر نہیں ہے۔ یہ معاملہ کانگریس کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ واحد فریق جو اس معاہدے کو ہونے کی اجازت دے سکتی ہے وہ کانگریس ہے، لیکن اس نے ابھی تک اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ نیٹو سے متعلق ترکی کے ساتھ اختلافات کے نتیجے میں اور دیگر وجوہات کی بناء￿ پر ایسا کرے گی۔ ترکیہ کے ’’سخوئی 400 ‘‘ کے لیے معاہدہ، ترکیہ اور یونان کے درمیان کشیدگی اور شام کیحوالے ترکیہ کی پالیسیاں بھی ہیں جن کو مدنظر رکھ کر امریکی کانگریس نے فیصلہ کرنا ہے۔امریکی تجزیہ کار نے ایف سولہ کے سودے کے حوالے سے مختصر مدت میں ترک اور امریکی فریقوں کے درمیان کسی بھی طرح کے میل جول کو مسترد کر دیا اور کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ بات چیت کے باوجود یہ معاہدہ بھلا دیا جا سکتا ہے۔ترک وزیر خارجہ نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے ملک نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ انقرہ کو ایف سولہ فروخت کرنے کی اپنی کوششوں کے بارے میں فیصلہ کن طور پر بتائیں اور کانگریس کو اس معاہدے کی مخالفت ترک کرنے پر راضی کرے۔انہوں نے بلنکن کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد سرکاری ترک چینل ’’ ٹی آر ٹی ‘‘ کے بیانات میں یہ بھی کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ انتظامیہ فیصلہ کن ہوگی یا نہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر کانگریس کسی بھی اقدام کے خلاف سخت موقف کا اظہار کرتی ہے تو معاہدہ طے پانے میں مشکل ہوجائے گی۔میولیود چاوش اولو نے کہا تھا کہ انتظامیہ کو دو اتحادیوں کے درمیان اس طرح کے اہم معاہدے کو صرف اس لیے ضائع نہیں کرنا چاہیے کہ ایک شخص یا چند لوگوں کو اس پر اعتراض ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے اس سے قبل کانگریس کی مخالفت کے باوجود یوکرین پر روسی حملے کے پیش نظر نیٹو اتحاد کو برقرار رکھنے کی انتظامیہ کی کوششوں کے حصے کے طور پر ترکی کو طیاروں کی فروخت کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper