Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

حلب میں کثیرمنزلہ رہائشی عمارت زمین بوس، بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Jan.

دمشق ،23جنوری:شام کی وزارت داخلہ کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے کہ شمالی شام کے شہر حلب میں کرد اکثریتی محلے میں ایک گنجان آباد عمارت اتوار کوزمین بوس ہوگئی جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کم سے کم 13 افراد ہلاک ہو گئے۔ عمارت کے ملبے تلے کئی افراد دبے ہوئے ہیں اور انہیں نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔شام کے دوسرے سب سے بڑے شہر حلب میں رہائشی عمارتوں کے گرنے کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ میڈیا کے مطابق اس نوعیت کے زیادہ تر واقعات کچی بنیادوں اور غیر قانونی تعمیرات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس کیعلاوہ شہروں میں پرتشدد لڑائیاں بھی عمارتوں کیکم زور ہونے کا باعث بنتی ہیں۔شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سانا) نے ابتدائی طور پر اطلاع دی تھی کہ وزارت اطلاعات کے سامنے “عمارت کی بنیادوں میں پانی رسنے” کے نتیجے میں شیخ مقصود محلے میں ایک رہائشی عمارت کے گرنے سے ایک بچے سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وزارت داخلہ نے مرنے والوں کی تعداد 13 بتائی ہے تاہم ان میں بچوں کی ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔’’سانا‘‘ کی طرف سے شایع کیے گئے ایک بیان کے مطابق وزارت اطلاعات نے بتایا کہ صرف ایک شخص کو زندہ نکالا گیا ہے، جبکہ ملبے کو ہٹانے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے۔وزارت نے بتایا کہ پانچ منزلہ رہائشی عمارت جس میں سات خاندان رہائش پذیر تھے صبح3:00 بجے گر گئی۔محلے کے مکینوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ عمارت میں موجود افراد کی تعداد 35 بتائی جاتی ہے۔کرد خود مختار انتظامیہ سے وابستہ ’’حوار‘‘ایجنسی نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پانچ بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔شیخ مقصود محلے کے پڑوس میں کردوں کی اکثریت ہے اور اسے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس چلاتے ہیں۔ حلب کے شمال مغربی دیہی علاقوں میں عفرین کے علاقے سے بے گھر ہونے والے لوگوں نے برسوں پہلے ترک افواج کے کنٹرول میں آنے کے بعد اس میں پناہ لی تھی۔

About the author

Taasir Newspaper