Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

!سپریم کورٹ زندہ باد

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 6th Jan.

سپریم کورٹ نے جمعرات (4 جنوری) کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی شہر میں واقع 4 ہزار سے زیادہ رہائشی مکانات کو 7 دنوں کے اندر زمین بوس کر دئے جانے سے متعلق نینی تال ہائی کورٹ کے فیصلے پر عارضی روک لگا دی ہے۔سپریم کورٹ کی متعلقہ بنچ نے جیسے ہی یہ فیصلہ سنایا کہ’’ برسوں سے ایک جگہ پر رہنے والے 50 ہزار لوگوں کو اس طرح سات دن کے نوٹس پر نہیں اکھاڑ پھینکا جا سکتا‘‘ متاثرین خوشی کے مارے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ایک طرف سپریم کورٹ کے احاطے میں مٹھائیاں بنٹنے لگیں، سپریم کورٹ زندہ باد کے نعرے لگنے لگے تو دوسری طرف ہلدوانی کی سڑک پر دعاؤں میں مصروف ہزاروں مرد و عورت، بچے و بچیاں اور بوڑھے و نوجوان بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہو گئے۔ان کی دعائیں قبول ہو گئی تھیں۔
اتراکھنڈ کے شہر ہلدوانی میں ریلوے کی زمین پر مبینہ طور پر غیر قانونی تجاوزات کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے نینی تا ل ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر فی الحال روک لگا دی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ہلدوانی میں واقع ، ریلوے کی زمین پر سے تجاوزات کو 7 دن کے اندر ہٹایا جائے۔ زمین کے جس حصے پر ریلوے اور ریاستی حکومت کے ذریعہ اپنا اپنا دعویٰ کرتے ہوئے یہ کہا جا رہا تھا اس پر ناجائز قبضہ کر لیا گیا ہے، اس زمین پر تقریباََ 50 ہزار لوگ کئی نسلوں سے رہتے آ رہے ہیں۔ اس زمین پر لگ بھگ 4400 مکانات پر مشتمل کالونی ہے۔ اس کالونی میںمسجد، مندر، سرکاری اسکول اور کالج بھی موجود ہیں۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد سے ہی پوری کالونی کو بلڈوز کر دئے جانے کا خطرہ منڈلانے لگا تھا۔ لیکن فی الحال سپریم کورٹ کے حکم کے بعد یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں کہا ہے کہ اس وقت ہمیں کسی بھی کیس کے انسانی پہلو کو دیکھنا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم اس فیصلے پر حکومت اور ریلوے کے جواب کا انتظار کریں گے۔
سپریم کورٹ کے جج سنجے کول نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ہمیں اس معاملے کے انسانی پہلو کو سمجھنا ہوگا، جس میں متعلقہ زمین سے تجاوزات ہٹانےکے لئے کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے قبل نینی تال ہائی کورٹ نے 7 دنوں کے اندر زمین خالی کرنے کا حکم ریاستی حکومت کو دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ریاستی حکومت نے پوری کالونی پر بلڈوزر چلانے کی پوری تیاری کر لی تھی۔پولس فورس کی تعیناتی ہو چکی تھی۔متعلقہ افسروں کے ذریعہ علاقے کے حالات کا جائزہ لے لیا گیا تھا، لیکن اس درمیان معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔ جمعرات کو عدالت میں سماعت ہوئی، جس کے بعد ہائی کورٹ کے حکم پر آئندہ سماعت تک روک لگا دی گئی۔ دوسری جانب سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل ہلدوانی میں سینکڑوں لوگوں نے با جماعت نماز ادا کرنے کے بعد رو ر رو کرعا کی تھی کہ انکے گھر محفوظ رہیں۔ لوگوں کا سوال تھا کہ جس کالونی کو حکومت بلڈوز کرنا چاہتی ہے، اگر ایسا ہوا تو وہاں رہنے والے ہزاروں لوگ اس سردی میں کہاں جائیں گے؟
ادھر حکومت اترا کھنڈ حکومت اور ریلوے کی دلیل یہ تھی کہ جس زمین پر لوگوں نے قبضہ کرکے کالونی بنا لی ہے وہ سرکاری زمین ہے۔ ریلوے کی دلیل تھی کہ اس کے پاس پرانے ریونیو ریکارڈ زہیں۔ دوسری جانب جب یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو وہاں یہ کہا گیا کہ ہمیں اس معاملے کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھنا ہوگا۔اس پر فیصلہ سناتے ہوئے نینی تال ہائی کورٹ نے یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی کہ جو لوگ یہاں نسلوں سے رہ رہے ہیں وہ کہاں جائیں گے، بے گھر ہونے کے بعد کیسے رہیں گے، اس سوالات پر کسی نے کچھ نہیں سوچا تھا۔ متاثرین کی باز آباد کاری کیسے ہوگی ،اس پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اتراکھنڈ کی منتخب حکومت نے بھی اس بارے میں کوئی تشویش ظاہر کرنا ضروری نہیں سمجھا، جب کہ اس مہم سے متاثر ہونے والے باشندے اس کی توقع کر رہے تھے۔ جمہوری نظام میں لوگ حکومت سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔
بہرحال ان حالات میں حد سے زیادہ پریشان اور مایوس متاثرین سخت سردی میں سڑکوں پر آگئے تھے۔ عورتیں، بچے، بوڑھے کسی طرح اپنا گھر بچانے کے لیے دھرنے پر بیٹھ گئے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں درست کہا کہ برسوں سے ایک جگہ پر رہنے والے 50 ہزار لوگوں کو اس طرح سات دن کے نوٹس پر نہیں اکھاڑ پھینکا جا سکتا۔ معاملے کی اگلی سماعت اب 7 فروری کو ہوگی۔ ریاستی حکومت اور ریلوے سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔ اب کیس کے تمام پہلوؤں پر باریکی سے غور کیا جائے گا۔ لیکن اہم کسوٹی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر طے کر دی ہےکہ اس معاملے کا کو ئی عملی حل ہونا چاہیے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس طرح کے دیگر معاملات میں بھی سپریم کورٹ کے اس انسانی آبزرویشن کو مدنظر رکھا جائے گاتاکہ متعلقہ متاثرین بھی سپریم کورٹ زندہ باد کا نعرہ لگا سکیں۔
**********************

 

About the author

Taasir Newspaper