Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

غلام نبی آزاد کی گھر واپسی کا امکان

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 24th Jan.

کانگریس لیڈر راہل گاندھی، پارٹی کی ’’بھارت جوڑو یاترا ‘‘کے دوران ان دنوںجموں میں ہیں۔ جموں میں گزشتہ منگل کو انھوں نے ایک پریس کانفرنس کی۔پریس کانفرنس میںراہل گاندھی نے پارٹی کے سابق لیڈر اور جموں و کشمیر کےقد آور لیڈر غلام نبی آزاد کے بارے میں بڑا بیان دیا تھا۔ راہل نے کہا کہ اگر کبھی میری وجہ سے انہیں تکلیف پہنچی ہے تو میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ کانگریس پارٹی سے غلام نبی آزاد کی علیحدگی کے بعد راہل کے اس بیان کے کئی سیاسی معنی نکالے جا رہے ہیں۔ میڈیا سے بات چیت میں راہل گاندھی نے چودھری لال سنگھ کا بھی نام لیا اور ان سے بھی اظہار معذرت کیا۔ ساتھ ہی راہل نے فوج کے سرجیکل اسٹرائیک کو لے کر دگوجے سنگھ کے بیان کے بارے میں بھی وضاحت کی۔ راہل نے کہا کہ یہ دگوجے سنگھ کا ذاتی بیان ہے۔ میں فوج کی بہادری پر سوال نہیں اٹھا سکتا ہوں۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ غلام نبی آزاد نےگزشتہ سال 26 اگست کو کانگریس سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ آزاد کے استعفیٰ کی وجہ پارٹی سے عدم اطمینان بتائی گئی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے ساتھ غلام نبی آزاد کا سفر تقریباً چار دہائیوں تک جاری رہا ۔انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کانگریس کےبلاک صدر کے طور پر کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے پہلی بار مہاراشٹر کی واشم لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ سال 1982 میں غلام نبی آزاد اندرا گاندھی حکومت میں شامل ہوئے۔اس کے بعد انھوںنے نرسمہا راؤ کی حکومت میں دوبارہ پارلیمانی امور اور شہری ہوا بازی کی وزارت کی ذمہ داری سنبھالی۔ سال 2005 میں آزاد جموں و کشمیر کے 7ویں وزیر اعلیٰ بنے۔
واضح ہو کہ غلام نبی آزاد نے کانگریس پارٹی سے ناراضگی کی وجہ سے 5 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ کانگریس صدر کو بھیجا تھا۔اس میں انہوں نے سینئر لیڈروں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی میں سینئر لیڈروں کا کوئی احترام باقی نہیں ہے۔ اپنے استعفیٰ نامہ میں غلام نبی آزاد نے راہل گاندھی کی بھی شکایت کی تھی۔دوسری جانب جب 2022 میں ملک کے تیسرے سب سے بڑے سول اعزاز’’ پدم بھوشن‘‘ سے غلام نبی آزاد کو جب نوازا گیا تبھی سے بی جے پی سے ان کی قربت کا چرچا ہونے لگا۔ساتھ ہی یہ بھی چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیںکہ وہ جلد ہی بی جے پی میں شامل ہونے والے ہیں۔لیکن تمام تر قیاس آرائیاں اس وقت ختم ہو گئیں جب غلام نبی آزاد نے اپنی نئی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی(ڈی اے پی) کا اعلان کر دیا۔استعفیٰ کے قبل غلام نبی آزاد کا نام جی۔23 کے ان لیڈروں کی فہرست میں شامل تھا، جو کانگریس سے ناراض تھے۔
اِدھرغلام نبی آزاد کی نئی پارٹی ابھی ٹھیک سے زمین پراتری بھی نہیں تھی کہ کانگریس چھوڑ کر اس کے ساتھ گئے لیڈروں نے ایک ایک کرکے ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگے۔ان میں سے کچھ نے تو اعلانیہ طور پر یہ بھی کہنا شروع کر دیا تھا کہ ہم نے کانگریس چھوڑ کر بڑی بھول کی ہے۔چنانچہ گزشتہ ماہ دسمبر کے آخری ہفتہ سے اب تک ایک ایک کر کےکئی سینئر لیڈروں سمیت 17 ذمہ دار رہنما ان کی پارٹی کو چھوڑ کر کانگریس میں واپس ہو چکے ہیں۔ ان لیڈروں میں کشمیر کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر تاراچندرا بھی شامل ہیں۔ سب کی گھر واپسی پارٹی ہیڈکوارٹر نئی دہلی میں ہوئی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے ان لیڈروں کا پارٹی میں خیرمقدم کیا۔ جموں و کشمیر کانگریس کے صدر وقار رسول وانی بھی گھرواپسی کی تقریب میں موجود تھے۔
غلام نبی آزاد کی پارٹی ڈی اے پی نےاس درمیان جموں و کشمیر میں آنے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ساتھ ہی ان کی پارٹی میں اب کوئی لیڈر ٹھہرنے کے لئے تیار نظر نہیں آ رہا ہے۔ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر غلام نبی آزاد اپنی پارٹی کے لیڈروں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو کیا جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک نیا آپشن دینے کا ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا ؟
تاہم، ایک ہفتہ قبل غلام نبی آزاد کے بارے میں اچانک یہ چرچا عام ہوا تھا کہ وہ بھی گھر واپسی کر رہے ہیں۔ کانگریس کے قد آور رہنما پارٹی میں ان کی واپسی کے لیے ایک دوستانہ ماحول بنانے کے لئےپردے کے پیچھے سے کام کر رہے ہیں۔مگر غلام نبی آزادنے اپنی گھر واپسی کے سلسلے میںابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں دیا ہے۔حالانکہ ہماچل پردیش اور گجرات اسمبلی انتخابات سے قبل انھوںنے کہا تھا کہ صرف کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جو بی جے پی سے لڑ سکتی ہے۔دوسری جانب دگ وجے سنگھ نے غلام نبی آزاد کو ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی ہے۔ایسے میں ایک طرف راہل گاندھی کے اظہار معذرت اور دوسری جانب دگوجے سنگھ کی دعوت کے ساتھ ساتھ ڈی اے پی کے حالات اور غلام نبی آزاد کے جھکاؤ کا تجزیہ ایک ساتھ کرنے کے بعد جو نتیجہ سامنے آتا ہے ، اس کے مطابق ایسا لگ رہا ہے کہ جب’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘کا قافلہ شری نگر میں داخل ہوگاتب اس کا استقبال کرنے والے لیڈروں میں غلام نبی آزاد بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
*************************

About the author

Taasir Newspaper