Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

یتیم خانہ خادم الاسلام ، کشمیری کوٹھی ۔ پٹنہ سیٹی میں مکتب کا آغاز

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 3rd Jan.

پٹنہ :یتیم خانہ خادم الاسلام ، کشمیری کوٹھی ۔ پٹنہ سیٹی کے سکریٹری سید حسین مجید ایڈووکیٹ ، پٹنہ ہائی کورٹ مطلع کرتے ہیں کہ مورخہ ۲ ؍ جنوری سے یتیم خانہ میں مکتب کا آغاز کیا گیا ۔ یہ مکتب ہر روز بعد نماز مغرب تا عشاء چلے گا ۔ جس میں بچے اور بچیوں کو ناظرہ قرآن، نورانی قاعدہ ، بنیادی اردو ، کلمہ ، درود، اور مختلف اوقات میں پڑھی جانے والی دعائیں اور نماز کا طریقہ وغیرہ سکھایا جائیگا۔ ایسے بچے اور بچیوں جو اسکول میں زیر تعلیم ہیں لیکن دینی تعلیم حاصل نہیں کرپارہے ہیں ان کیلئے یتیم خانہ میں اس طرح کے نظم کی شروعات کی گئی ہے ۔ پڑھنے اور لکھنے سے متعلق سہولتیں انجمن کے ذریعہ دستیاب ہوگی ۔ ْ
حسین مجید نے مقامی حضرات اور قرب و جوار میں مقیم والدین یا سرپرست سے مخلصانہ گزارش کی ہے کہ وہ اپنے بچے اور بچیوں کو مکتب میں ضرور داخلہ کرائیں ۔ مکتب میں پرھنے والے بچوں کو انجمن سے کتابیں ، کاپیاں ، نورانی قاعدہ ، تعمیر ادب وغیرہ مفت میں دستیاب کرایا گیا ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انجمن کے زیر نگرانی خادم الاسلام ہائی اسکول ، کشمیری کوٹھی میں درجہ اول تا آٹھویں تک کے بچے اور بچیوں کی تعلیم کا بہتر انتظام کیا جارہا ہے اور خاص طور پر بچیوں کی تعلیم پر خصوصی زور دیا جائیگا اور انکی تعلیمی سلسلہ کی تکمیل فیس میں خصوصی رعایت بھی کی جائیگی ۔ ۔ تعلیم سیشن کو بہتر بنانے کیلئے طلباء و طالبات کیلئے الگ الگ کلاس کا نظم رہے گا ۔ اس کے علاوہ کھیل کود کا بھی اچھا انتطام رہے گا ۔ حکومت کی طرف سے جاری اسکالر شپ کو بھی دلایا جائیگا۔ حسین مجید نے یہ بھی بتایا کہ اسکول کے اساتذہ اور ملازمین کو ماہ دسمبر کی تنخواہ بھی جاری کردیا گیا ۔
مکتب کے افتتاح کے موقع پر ممبران محمد جاوید ، محمد فیروز ، ابرار احمد رضا، پیش پیش دیکھے گئے ۔ اس کے علاوہ رویز قاسم ، محمد شوکت، محمد منا،محمد نوشاد ، نواب رحمت اللہبھی موجود تھے ۔

About the author

Taasir Newspaper