Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دینیات

حسد ایک سماجی اور معاشرتی ناسور ہے

Written by Taasir Newspaper

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –11  MAY

مولانا ڈاکٹر سجاد احمد ندوی

خالق کائنات نے ہر انسان کو دو طرح کی صلاحیت عطا کی ہے۔ایک اچھائی اور دوسری برائی۔ان دونوں صلاحیتوں کو پرکھنے کے لئے ایک آلہ دیا ہے، جس کا نام احساس ہے۔جس قوم میں احساس موجود ہے وہ زندہ ہے اور جس قوم میں احساس کی صلاحیت نہیں ہے وہ زندہ رہتے ہوئے بھی مردہ ہے۔

جب کوئی انسان غلط کام کرتا ہے تو اس پر اس کو شرمندگی ہوتی ہے اسی ندامت اور شرمندگی کو احساس کہتے ہیں،لیکن جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے اور اس پر اسے ندامت نہیں ہوتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے احساس کی صلاحیت مردہ ہو چکی ہے۔علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے   ؎

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

انسان کو اللہ تعالیٰ نے صحیح فطرت یعنی فطرت سلیم سے نوازا ہے۔جب انسان فطرت کے خلاف کام کرتا ہے تو لازمی طور پر وہ فطرت کا باغی بن جاتا ہے۔اور فطرت سے بغاوت انسان کو اپنے مقام اور ذمہ داریوں سے بے خبر بنا دیتی ہے۔معاشرہ کی پرواہ نہ کرنا، سماجی اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرنا۔سماجی ذمہ داریوں سے الگ تھلگ رہنا ایسے اعمال ہیں۔جو رفتہ رفتہ انسان کو انسانیت کے دائرے سے نکال کر حیوانیت کے دائرے میں داخل کر دیتے ہیں اور انسان حیوانیت کی زندگی کو پسند کرنے لگتا ہے، پھر آہستہ آہستہ اس کے اندر سنگ دلی اور شقاوت پیدا ہو جاتی ہے جو اس کو درندہ صفت بنا دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو غیبت، بہتان،بدگمانی اور حسد و کینہ سے منع فرمایا ہے۔یہ چیزیں انسانی معاشرہ میں زہر گھولنے والی اور برادرانہ تعلقات کو ختم کرنے والی ہیں۔سچے مومن کی صفات یہ ہونی چاہئے کہ اس کا دل نفرت،حسد،غیبت،بہتان،بدگمانی اور کینہ کی کدورتوں سے پاک و صاف ہو۔عمل اور کردار کی پاکیزگی ہی انسان کو جنت میں داخل کرتی ہے،خواہ اس کا شمار بہت زیادہ عبادت گذار،راتوں کو نوافل پڑھنے اور دن کو روزہ رکھنے والوں میں نہ ہوتا ہو۔حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں کہ:

ُُ’’ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے۔اچانک آپؐ نے فرمایا۔تمہارے پاس ایک شخص آنے والا ہے جو اہلِ جنت میں سے ہے۔تھوڑی ہی دیرکے بعد ایک انصاری نمودار ہوا جس کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا اور جس نے اپنے بائیں ہاتھ میں اپنے جوتے اٹھا رکھے تھے۔ دوسرے دن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا اور وہی شخص پہلی مرتبہ کی طرح نمودار ہوا۔تیسرے دن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات فرمائی اور وہ شخص اسی حالت میں ظاہر ہواپھر مجلس برخواست ہوئی تو حضرت عبداللہ بن عمر العاص ؓنے اس شخص کا پیچھاکیا اور اس کے پاس پہنچ کر کہا’’ میں نے اپنے باپ سے جھگڑا کر لیا ہے اور تین بار قسم کھا لی ہے کہ میں ان کے گھر میں نہیں جائوں گا اس لئے اگر آپ مجھے پناہ دے دیں تو اچھا ہوگا۔‘‘ انھوں نے کہا ٹھیک ہے حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ان کے ساتھ تین راتیں گذاریں مگر انھیں راتوں میں نوافل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ وہ صرف یہ کرتے تھے کہ رات میں جب آنکھ کھلتی اور بستر پر کروٹیں بدلتے تو اللہ کا ذکر کرتے اور اللہ اکبر کہتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی اور وہ فجر کی نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے۔حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ’’البتہ میں نے ان سے ہمیشہ خیر کے کلمات ہی سنے۔جب تین راتیں گذر گئیں اور مجھے ان کا کوئی خاص عمل یعنی نوافل ،تہجد وغیرہ پڑھتے نہیں دیکھا تو میں نے ان سے کہا۔اے اللہ کے بندے میرے اور میرے باپ کے درمیان نہ لڑائی جھگڑا ہوا تھا نہ میں نے ان سے ترک تعلق کیا تھا،حقیقت یہ ہے کہ میں نے تین مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا  کہ تمہارے پاس ایک شخص آنے والا ہے جو اہلِ جنت میں سے ہے اور تینوں مرتبہ آپ ہی نمودار ہوئے اس لئے میں نے سوچا کہ میں آپ کے پاس رہ کر دیکھوں کہ آخر وہ کون سا عمل ہے جس کی بنا پر آپ اس بلند درجہ تک پہنچ گئے جس کی بشارت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے؟ انھوں نے فرمایا جو کچھ تم نے دیکھا اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔میں واپس ہونے کے لئے پلٹا تو انھوں نے مجھے بلایا اور کہا جو کچھ تم نے دیکھا اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان اور انسان کے بارے میں کھوٹ اور حسد کینہ نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی انسان کے بارے میں بد گمانی رکھتا ہوِ۔‘‘

’’اس حدیث شریف سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ آخرت کا فیصلہ کرنے اور اللہ کے بارگاہ میں اس کا درجہ بلندکرنے میں صاف دلی حسد و کینہ سے نفس کی پاکیزگی اور دل کی طہارت کا بہت بڑا دخل ہے۔اس سے بندے کا عمل خدا کی بارگاہ میں مقبول ہو جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی کم ہو۔صاف دلی کا یہ اثر بخوبی واضح ہو جاتا ہے جب ہم اس شخص کا (جس نے معمولی عبادت ہی کی تھی مگر پاکیزگیٔ نفس اور لوگوں کو تکلیفیں نہ پہچانے کی وجہ سے جنت کا مستحق ہو گیا)

موازنہ اس عورت سے کرتے ہیں جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ وہ رات میں نوافل پڑھتی ہے اور دن میں روزہ رکھتی ہے۔لیکن اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہونچاتی ہے تو آپؐنے فرمایا وہ جہنمی ہے(الادب المفرد)

اس لئے کہ اسلام کے ترازو میں جس کا پلڑا بھاری ہوتا ہے وہ وہی شخص ہے جو سچا اور صاف دل ہوتا ہے۔جس کا نفس حسد،کینہ، دغا بازی، وعدہ خلافی اور غداری سے پاک و صاف ہوتا ہے۔خواہ وہ عبادت کم ہی کرتا ہو۔معمولی عبادت کے باوجود اس کی مثال اس صاف ستھری اینٹ کی سی ہے جو اسلامی معاشرت کی عمارت میں مضبوطی کے ساتھ لگی ہوئی ہو۔لیکن جس شخص کے سینے میں لوگوں سے بغض،حسد، اذیت رسانی اور دغا بازی پر پروان چڑھ رہی ہو۔اس کی عبادت خواہ کتنی ہی ہو جائیں مگر اس کا پلڑا اسلام کے ترازو میں ہلکا ہوتا ہے۔

حسد کی تعریف: حسد کی تعریف اور حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو دیکھا کہ اس کو کوئی نعمت ملی ہوئی ہے۔خواہ وہ نعمت دنیا کی ہو یا دین کی اس نعمت کو دیکھ کر اس کے دل میں جلن اور کڑھن پیدا ہوئی کہ اس کو یہ نعمت کیوں مل گئی اور دل میں یہ خواہش ہوئی کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے تو اچھا ہے یہ ہے حسد کی تعریف۔

مثال کے طور پراللہ نے کسی بندے کو مال و دولت دیا،یا کسی کو صحت اور شہرت سے نوازا یا کسی کو علم اور عزت عطا فرمایا اب دوسرے شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو رہا ہے کہ یہ نعمت اس کو کیوں ملی؟ اس سے یہ نعمت چھن جائے تو بہتر ہے، اور اس کے خلاف کوئی بات آتی ہے تو وہ اس سے خوش ہوتا ہے اور اگر اس کی ترقی سامنے آتی ہے تو اس سے دل میں رنج اور افسوس ہوتا ہے کہ یہ کیوں آگے بڑھ گیا اسی کو حسد اور کینہ کہتے ہیں۔

حسد کی تین قسمیں ہیں:

(۱) پہلی قسم یہ ہے کہ دل میں یہ خواہش ہو کہ مجھے بھی ایسی نعمت مل جائے اگر اس کے پاس رہتے وئے مل جائے تو بہت اچھا ہے۔ورنہ اس سے چھن جائے اور مجھے مل جائے۔

(۲) حسد کی دوسری قسم یہ ہے کہ جو نعمت دوسرے کو ملی ہوئی ہے وہ نعمت اس سے چھن جائے اور مجھے مل جائے۔

(۳) حسد کی تیسری قسم یہ ہے کہ دل میں یہ خواہش ہو کہ یہ نعمت اس سے کسی طرح چھن جائے اور اس نعمت کی وجہ سے اس کو جو امتیاز اور مقام حاصل ہوا ہے اس سے وہ محروم ہو جائے پھر چاہے وہ نعمت مجھے ملے یا نہ ملے یہ حسد کی بد ترین قسم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء میںفرمایا ہے کہ’’کیا لوگ دوسروں پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت دوسروں کو عطا کر دی اب اس پر حسد کر رہے ہیں اور جل رہے ہیں۔‘‘

حسد کی دو وجہ ہے:  جب انسان احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اور اپنے کو گھٹیا سمجھتا ہیے تو اس کے اندر جلن پیدا ہوتی ہے، اس لئے انسان ہمیشہ یہ چاہتا ہے میرا مقام بلند رہے۔میں اونچا رہوں دوسرا آگے نہ بڑھے۔ دوسری وجہ ہے’’ بغض‘‘ اور کینہ۔مثلاً کسی سے دل میں بغض اور کینہ پیدا ہو جائے اس بغض کی وجہ سے دوسروں کی راحت سے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی خوشی سے رنج ہوتا ہے۔جب دل میں یہ دو باتیں ہوں گی تو اس کے نتیجے میں لازماً حسد پیدا ہوگا۔حسد ایسا ناسور ہے جو کہ آخرت میں انسان کو ہلاک کرنے والا ہے بلکہ دنیا کے اندر بھی انسان تکلیف اور گھٹن محسوس کرتا ہے اس کے ذریعہ دنیا اور آخرت دونوں برباد ہوجاتا ہے کیونکہ حسد ایک ایسی آگ ہے جو رفتہ رفتہ سلگتی چلی جاتی ہے اور انسان کی نیکیوں کو ختم کر ڈالتی ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ میری نیکیاں ختم ہو رہی ہیں اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد سے بچنے کی تاکید فرمائی۔

در حقیقت حسد کرنے والا اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتراض کر رہا ہے اس کو یہ نعمت کیوں دی ؟ مجھے کیوں نہیں دی؟ یہ خالق کائنات کے فیصلہ پر اعتراض کر رہا ہے اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں اور ماحول پر نظر ڈال کر دیکھیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ یہ حسد کی بیماری معاشرہ کے اندر چھائی ہوئی ہے۔ اس وجہ سے اس کی سنگینی اور خطرناکی بہت زیادہ ہے۔بہت کم اللہ کے بندے ایسے ہیں جو اس بیماری سے محفوظ ہیں۔

حسد دو چیزوں میں کرنا جائز ہے(جیسا کہ حدیث میں غِبط لفظ آیا جس کے معنی ہیں رشک کرنا) ایک وہ شخص جس کو اللہ نے علم و حکمت سے نوازہ ہے، دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے مال و دولت سے سرفراز فرمایا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ علم و حکمت کو اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے حاصل کیا ہو اور عملی جامہ پہنایا ہو۔اس پر رشک کرنا جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی علم و حکمت سے نوازے اور اس کی نشر و اشاعت کی توفیق دے۔

دوسرا وہ شخص جو اللہ کے راہ میں اپنے مال و دولت کو خرچ کرتا ہے تو اس شخص پر رشک اور حسد کرنا جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی مال و دولت سے نوازے تاکہ ہم بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسم میں ایک لوتھڑا ہے جب وہ درست رہے تو سارا جسم درسست رہے اور جب وہ بگڑے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔سن لو وہ دل ہے۔

دل تین طرح کے بتائے گئے ہیں ایک تو قلب سلیم یعنی وہ دل جس میں اللہ کی محبت اور عظمت اور اس سے دوری پیدا کرنے والے کاموں سے نفرت اور بغض کے علاوہ کسی چیز کا گذر نہیں اور یہی قلب سلیم انسان کا جب اللہ کے پاس جائے گا تو اس کو نفع دے گا۔دوسری قسم کا قلب وہ مردہ دل ہے جس میں کوئی زندگی نہیں وہ نہ اپنے رب کو پہچانتا ہے نہ اس کی عبادت کرتا ہے۔

ایک مرتبہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ بتائو مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ مفلس وہ ہے جس کے پاس روپے پیسے نہ ہوں۔آپؐ نے فرمایاکہ یہ حقیقی مفلس وہ نہیں ہے بلکہ حقیقی مفلس وہ ہے کہ جو اپنے نامۂ اعمال میں بہت ساری نیکیاں، بہت ساری نمازیں، بہت سارے روزے، بہت سارے ذکر و اذکار دنیا سے لے کر جائے گالیکن جب اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کے روز حساب و کتاب کے لئے حاضر ہوگا تو وہاں پر لوگوں کی بھیڑ ہوگی۔ایک کہے گا کہ اس نے میرا فلاں حق چھین لیا تھا، دوسرا کہے گا اس نے میرا حق دبایا تھا،تیسرا کہے گا اس نے میرا حق پامال کیا تھا۔اب وہاں کی کرنسی یہ نوٹ تو ہوں گے نہیں کہ ان کو دے کر حق پورا کر دیا جائے،وہاں کی کرنسی تو نیکیاں ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ حکم فرمائیں گے کہ ان لوگوں کو حقوق کے بدلے میں اس شخص کی نیکیاں دے دی جائیں۔اب ایک شخص نمازیں لے جائے گا،کوئی اس کا ذکر و افکار لے کر چلا جائے گا۔اس طرح اس کی نیکیاں ختم ہہو جائیں گی لیکن لوگوں کے حقوق پورے نہیں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جب نیکیاں ختم ہو گئیں تو صاحب حقوق کے گناہ اس کے نامۂ اعمال میں ڈال کر ان کے حقوق ادا کر دو جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب آیا تھا تو اس وقت اعمال نامہ نیکیوں سے بھرا ہوا تھا اور جب واپس جا رہا ہے تو نہ صرف یہ کہ خالی ہاتھ ہے بلکہ گناہوں کے بوجھ اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔حقیقت میں غریب مفلس یہ ہے۔

بہرحال حسد کے ذریعہ اسی طرح نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں آئینے کی طرح دل عطاء فرما دے جو حسد، بغض، غیبت اور کینہ سے پاک و صاف ہو۔

انسان صرف گوشت پوست کا نام نہیں ہے۔انسان نام ہے محبت و الفت، ہمدردی و خیر خواہی، نرم خوئی اور شیریں کلامی، تواضع و انکساری، ایثار و قربانی، نظافت و پاکیزگی، فرض شناسی اور مستعدی، استقلال و پا مردی، خدا ترسی اور پرہیز گاری یہ سب انسان کے دلکش خد و خال ہیں۔جن کے ذریعہ انسان کی زندگی میں غیر معمولی کشمکش اور جاذبیت پیدا ہو جاتی ہے۔علامہ اقبال نے کیا ہی خوب کہا ہے   ؎

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

٭٭٭

9934287655

About the author

Taasir Newspaper