……وہ مقصد کیا اس طرح کبھی پورا ہو پائے گا ؟

تاثیر،۱۲  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

اتر پردیش میں لوک سبھا انتخابات کی تیاریاں تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے طور پر شروع کر دی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ 80 لوک سبھا سیٹوں والی ریاست یوپی میں یوں توکہنے کے لئے مختلف اپوزیشن پارٹیاں متحدہ طور پر انتخابی میدان میں اترنا تو چاہتی ہیں،لیکن اب تک ان کی چاہت زمین پر اترتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بھی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر رہی ہے، لیکن ان ریاستوں میں اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کا کیا رخ ہوگا، یہ تصویر ابھی پوری طرح سے دھندلی ہی  ہے۔دراصل پانچ ریاستوں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میگھالیہ میں اس سال نومبر اوردسمبر میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ان پانچوں ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان مقابلہ ہو نے کا امکان ہے۔
  اسمبلی انتخابات والی ان پانچ ریاستوں میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے، لیکن حزب اختلاف کے اتحادی  جماعتیںکانگریس سے ان ریاستوں میں اپنا اپنا حصہ مانگ رہی ہیں۔ کانگریس ابھی تک ان جگہوں پر اپنے اتحادیوں کو سیٹیں دینے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہی ہے۔ ایسے میں اتر پردیش میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کا معاملہ گرم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے پہلے ہی کہا تھا کہ اتر پردیش میں ہم اپوزیشن اتحاد کے تحت اتحادیوں کو سیٹیں دیں گے۔ ساتھ ہی دیگر ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں ہم سینئر پارٹیوںسے سیٹیں لینے کی امید رکھیں گے۔ ایک طرح سے اکھلیش یادو نےاتر پردیش کے حوالے سے اپوزیشن اتحاد’’انڈیا‘‘میں اپنا کردار خود طے کر لیا ہے۔ وہ خود کو یوپی میں بڑے بھائی کے کردار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ اتحادی جماعتیں ان کی شرطوں پر انتخابی میدان میں اتر یں۔
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا انتخابات 2019 کے دوران سیاسی صورتحال نے یوپی کی انتخابی بساط کی تصویر کو پوری طرح سے بدل دیا تھا۔ ایم وائی (مسلم یادو) کے تانے بانے کی سیاست کر نے والی سماج وادی پارٹی اور دلت سیاست کی بنیاد پر اقتدار میں آنے والی بہوجن سماج پارٹی تقریباً 26 سال بعد ایک ساتھ انتخابی میدان میںتھیں۔ اس سے پہلے 1993 میں جب ملائم سنگھ یادو اور کانشی رام اکٹھے ہوئے تھے تو یوپی کی سیاست میں ایک نعرہ بہت مشہور ہوا تھا۔ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد بی جے پی ’’ہندوتو‘‘ کے گھوڑے پر سوار ہوکر یوپی کو جیتنے کے ارادے سے انتخابی میدان میں تھی،لیکن’’ملے ملائم کانشی رام، ہوا میں اڑ گئےجئے شری رام‘‘ کے نعرے کے ساتھ آنے والی دونوں پارٹیوں نے بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کردیا۔ حالانکہ یہ سیاسی ایکویشن 2019 میں بالکل کام نہیں آیا۔
اِدھربی جے پی جی جان سے لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں میں جٹی ہوئی ہے۔ پارٹی تمام 80 سیٹوں پر تنظیم کو مضبوط بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ سال 2019 میں پارٹی نے اپنے اتحادی’’ اپنا دل ایس‘‘ کو دو سیٹیں دی تھیں۔ دونوں سیٹیں پارٹی کے کھاتے میں آئی تھیں۔ اس وقت بی جے پی نے 62 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس بار پارٹی نے مشن 80 بنایا ہے۔ اس کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔  ’’ اپنا دل ایس‘‘ کی سربراہ  انوپریہ پٹیل کے رویے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بار بھی بی جے پی کی حلیف کے طور پر الیکشن کے میدان میں نظرآئیں گی۔ نشاد پارٹی نے گرچہ ابھی تک لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کی حلیف کے طور پر اپنی قسمت نہیں آزمائی ہے۔ پارٹی  کے مکھیا سنجے نشادیوپی کی یوگی حکومت میں وزیرہیں ۔وہ بھی لوک سبھا انتخابات میںا ین ڈی اے کے ساتھ رہیں گے، یہ طے ہے۔ اوم پرکاش راج بھر کی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی ایک بار پھر این ڈی اے میں شامل ہو گئی ہے۔ 2017 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اوم پرکاش راج بھر نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا تھا، لیکن 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے وہ اتحاد سے الگ ہو گئے تھے۔ اب ایک بار پھر وہ بی جے پی کے ساتھ ہیں اور مانا جا رہاہے کہ وہ آگے بھی بی جے پی کے ہی ساتھ رہیں گے۔
دوسری جانب یوپی میں سماج وادی پارٹی اپوزیشن اتحاد’’ انڈیا‘‘میں بڑے بھائی کا کردار ادا کرنے کے موڈ میں ہے۔ پارٹی پسماندہ، دلت اور اقلیتی مورچہ کے ذریعہ لوک سبھا انتخابات میں خود کو بڑے رول میں پیش کرنے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہے۔ پارٹی نے سماجی تانے بانے کا خیال رکھتے ہوئے 55 سے 60 فیصد ووٹ شیئر پر اپنا دعویٰ ٹھوکنا شروع کر دیا ہے۔ جبکہ کانگریس بھی اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کے ایک اہم حصے کے طور پر خود کو پیش کر رہی ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر اجے رائے تمام 80 لوک سبھا سیٹوں پر اپنی انتخابی تیاریوں کی بات کر رہے ہیں۔یہ بات یوپی کی ہواؤں میں گشت کر رہی ہے کہ کانگریس 25 سے کم سیٹیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اسمبلی انتخابات والی ریاستوں میں بھی پارٹی اپنے اتحادیوں کو سیٹیں دینے کے موڈ میں نظر نہیں آ رہی ہے۔ یہاں کہیں کہیں یہ بات بھی سننے میں آ رہی ہے کہ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی ٹیم مستقبل کی حکمت عملی کو ذہن میں رکھتے ہوئے بی ایس پی سپریمو مایاوتی کے رابطے میں ہیں۔ایسی صورتحال میں ایک اہم سوال جو ملک کے تمام شہریوں کے ذہن میں گھوم رہا ہے وہ یہ ہے کہ جس مقصد کے لئے اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی تشکیل عمل میں آئی ہےوہ مقصد کیا اس طرح کبھی پورا ہو پائے گا  ؟