تاثیر،۷ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن
تہران ،7اکتوبر:ایرانی وزارت خارجہ نے سماجی سرگرمیوں اور حکومت کے خلاف احتجاج کی پاداش میں قید کی سزا پانے والی انسانی حقوق کی خاتون وکیل نرگس محمدی کو امن کا نوبیل انعام دینے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایران کیاندرونی معاملات میں مداخلت کی پالیسیوں کا عکاس ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ نوبیل امن کمیٹی نے یہ انعام “ایک ایسی خاتون کو دیا ہے جو قانون کی بار بار خلاف ورزیوں اور مجرمانہ کارروائیوں کی مرتکب ہوئی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “نوبل امن انعام کمیٹی کا فیصلہ بعض یورپی ممالک کی ایران مخالف مداخلت کی پالیسیوں کے مطابق ایک سیاسی اقدام ہے”۔ایک بیان میں کنعانی نے نرگس محمدی کو امن کا نوبیل انعام دینے کو “تعصب اور ایوارڈ کی سیاست کرنے کا ایک قدم” قرار دیا۔نرگس محمدی کا شمار ایرانی انسانی حقوق کے نامور کارکنوں میں ہوتا ہے۔ وہ خواتین کے حقوق کا دفاع کرتی ہیں اور سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ بھی کرتی آئی ہیں۔انسانی حقوق کے دفاع سے وابستہ ایک تنظیم فرنٹ لائن ڈیفنڈرز کے مطابق نرگس اب تہران کی بدنام زمانہ ایوین جیل میں قید ہیں۔ انہیں قید سمیت 12مختلف نوعیت کی سزاؤں کا سامنا ہے۔ ان میں 31 سال قید اور 154 کوڑوں کی سزا بھی شامل ہے۔

