سنہرے دور کے روشن دل و دماغ کے عظیم المرتبت اساتذہ سخن کو دانشوران شعر و ادب کا بھر پور خراج

تاثیر،۲۶فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

صاحبان قرطاس و قلم کی محفل میں علامہ نجم آفندی، علامہ قدر عروضی، مولانا کامل شطاری، حضرت تاج قریشی کی شاعرانہ عظمتوں کا اعتراف
برگزیدہ پاسبان لوح و قلم کی تعظیم و تکریم اپنی شاعرانہ وراثت کا احترام زندہ ظرف و ضمیر کا شریفانہ شائستہ عمل ادارہ میرا شہر میرے لوگ کی اردو تہذیبی روایات کی ترجمان محفل شعر و ادب

حیدرآباد۔۲۴/فبروری (راست) متحرک و فعال ادارہ میرا شہر میرے لوگ کے زیر اہتمام ۲۲/ فبروری کو سات بجے شام ابوالکلام آزاد اورینٹل ریسرچ انسٹیٹیوٹ واقع متصل مسجد شاہی، باغ عامہ ، نامپلی میں شعری و ادبی محفل کا پر اثر شاندارو با وقار انداز میں انعقاد عمل میں آیا۔ شعری ادبی محفلوں کے روح رواں نامور عثمانین سابق صدر شعبہ اردو و جامعہ عثمانیہ و سابق ڈائریکٹر / سیکریٹری اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکونے صدارت کی۔ ادب دوست تہذیبی روایات کی ترجمانی کرنے والی ادبی شخصیتوں نے اپنی شرکت سے اس با مقصد اختراعی متنوع محفل شعر وادب کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔ صدر اجلاس کے علاوہ دیگر مہمانان خصوصی و مقررین نے بھر پور خراج پیش کیا اور ان قابل احترام شخصیتوں کی یاد میں مثالی محفل شعر وادب کے انعقاد پر داعیاں محفل کی ستائش کی ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے اپنی طویل تقریر میں اس منفرد و اختراعی محفل یادرفتگاں کے انعقاد کا دل کی گہرائیوں کے ساتھ اعتراف کیا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے یہ بھی کہا کہ جناب صلاح الدین نیر ، قاضی فاروق عارفی،جناب لطیف الدین لطیف کے بے لوث خدمات ناقابل فراموش ہیں ان کی خدمات کا ہر محفل میں اعتراف کیا جارہا ہے ۔ پروفیس ایس اے شکورنے یہ بھی کہا کہ شہر میں کئی اور ادبی انجمنیں اپنے اپنے انداز سے کام کررہی ہیں ۔ لیکن ادارہ میرا شہر میرے لوگ کی بے لوث ادبی خدمات قابل تحسین و قابل تقلید ہیں مشترکہ طور پر ان کامیاب سرگرمیوں کا سہرا ان کے سر جاتا ہے۔ اس ادارہ کی کامیاب ادبی سرگرمیوں کی شہر کی اردو کے محبان منفرد طریقہ کار کی ستائش کررہے ہیں ۔ اس قابل تقلید محفل شعر و ادب کے مدعوئین میں نامور و ممتاز صحافی جناب عزیز احمد جوائینٹ ایڈیٹر روزنامہ اعتماداور ایگزیکٹیو ایڈیٹر جناب اطہر معین تھے جنہوں نے اپنی عدم شرکت پر کہا کہ مک کی سیاسی خبروں نے ہمیں پا بہ زنجیر کیا ہے اس لئے ہم شرکت نہیں کرسکے۔ اس طرح کی بات ڈائریکٹر 4 ٹی وی جناب ایم اے ماجد نے بھی کی۔ اس بامقصد محفل کو مخاطب کرنے والوں میں نامور ممتاز دانشور شعر و ادب پروفیسر مسعود احمدبھی شامل تھے۔ جنہوں نے اپنی معلومات آفریں پر مغز تقریر میں ان محترم شخصیتوں کو پر اثر انداز میں خراج پیش کیا۔ ان کے علاوہ اردو محفوں کی فعال شخصیتوں ڈاکٹر مختار فردین اور ڈاکٹر جہانگیر احساس نے بھی مخاطب کیااور اپنے روشن خیالات سے محفل شعر و ادب کی رونق میں اضافہ کیا ۔صدر ادرہ میرا شہر میرے لوگ جناب صلاح الدین نیرنے بہ طور خاص پروفیسر ایس اے شکور کی دیرینہ سرپرستی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انسٹیٹوٹ کی رونق میں کافی اضافہ کیا ہے اور انسٹیٹیوٹ کو بقیہ نور کی حیثیت دی ہے نائب صدر قاضی فاروق عارفی نے اپنی تعارفی تقریر میں ادارہ کی سرگرمیوں پر اظہار خیا ل کیا۔ یہ بھی کہا کہ روشنی کا یہ تسلسل جاری رہیگا۔ فعال ، متحرک کارکرد معتمد ادارہ جواں سال شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے نہایت عمدگی و سلیقے کے ساتھ پر اثرو با وقار انداز میں محفل شعر و اد ب کی کاروائی چلائی۔ادارہ نے یہ طے کیا ہے کہ رمضان شریف کے آغاز سے پہلے نواب بہادریار خان ، مولانا خلیل اللہ حسینی، جناب صلاح اویسی اور مولانا حمید الدین عاقل کی یاد میں خراج عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا جائے۔ادبی اجلاس کے فوری بعد سینئر ونامور شاعر جناب حلیم بابر کی صدارت میں مشاعرہ ہوا۔ سینئر و معتبر و با وقار شاعر نور آفا قی کے علاوہ پروفیسر مسعود احمدمہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ حلیم بابر ، نور آفاقی، پروفیسر مسعود احمد کے علاوہ صلاح الدین نیر، فاروق عارفی، لطیف الدین لطیف ، ناقد رزاقی،تشکیل انور رزاقی، افضل عارفی، سہیل عظیم،، جہانگیر قیاس،ثنا اللہ وصفی ، گویند اکشے، خیر انسا علیم اور مسعود علی اکبرنے اپنا منتخب کلام سناکر داد و تحسین حاصل کی۔یہ کامیاب محفل شعر وادب لطیف الدین لطیف کے اظہار تشکر پر اختتام کو پہنچی۔تشکیل انور رزاقینیمعاونت کی۔