امریکی صدر نے غزہ میں رمضان سےقبل سیز فائر کو مشکل قرار دیدیا

تاثیر،۱۰مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،09 مارچ: امریکی صدر جوبائیڈن نے رمضان سے قبل غزہ میں سیز فائر کو مشکل قرار دے دیا۔غزہ میں رمضان سے قبل جنگ بندی معاہدہ طے پانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن قاہرہ میں اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں اب تک کوئی بڑی پیشرفت سامنے نہیں آسکی ہے۔امریکی خفیہ ایجنسی کے ڈائریکٹر بل برنس جنگ بندی معاہدے پر بات چیت کے لیے مصر کے بعد قطر پہنچ گئے ہیں جب کہ گزشتہ روز امریکی صدر بائیڈن نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں غزہ کے ساحل پرامداد کیلئے عارضی بندرگاہ کے قیام کا اعلان کیا۔تاہم اب امریکی صدر نے غزہ میں رمضان سے قبل سیز فائر کو مشکل قرار دیا ہے جب کہ جوبائیڈن نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے میں تشدد پر تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔اس حوالے سے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہیکہ غزہ میں سیز فائر اسی صورت جلد متوقع ہے کہ حماس اسرائیل کی تجویز قبول کرے جس میں 45 دن کی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی تجاویز شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ حماس کو آج ہی اس پر دستخط کرنے چاہئیں تاکہ ہم 45 روزہ جنگ بندی کرسکیں اور اس میں مزید توسیع بھی ہوسکتی ہے جب کہ اس موقع کو مسلسل جنگ بندی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ دوبارہ لڑائی کے بغیر سیز فائر جاری رہے۔برطانوی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم اس خوفناک لڑائی کو ہر صورت روکنا چاہتے ہیں اور اپنی طرف سے اس کی ہر بہتر کوشش کررہے ہیں لیکن یہ حماس پر ہے کہ وہ اس حوالے سے فیصلہ کرے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے مسلسل حملوں کی وجہ سے جہاں اموات میں اضافہ ہورہا ہے وہیں امداد نہ پہنچنے سے شدید غذائی قلت ہے جس کے باعث بھوک سے مزید بچوں کی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔فلسطینی حکام کے مطابق غزہ کے الشفا اسپتال میں مضر صحت خوراک اور ہیضہ کے امراض سے مزید تین بچے انتقال کرگئے جس کے بعد غذائی قلت سے انتقال کرنے جانے والے بچوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کی صبح رفح میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جہاں فضائی حملے میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ جمعہ کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے جب کہ اسرائیل کے فضائی حملوں سے عمارتیں تباہ ہوگئیں جن کے ملبے تلے متعدد افراد دب گئے۔