یہ تو عوام کو ہی طے کرنا ہے

تاثیر، ۳۱  مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

کل وطن عزیز بھارت کی سیاست میں دو اہم واقعات ہوئے۔پہلاواقعہ یہ ہوا کہ لوک سبھا انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد پی ایم نریندر مودی نے یوپی کے میرٹھ سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا اور اسٹیج سے اپوزیشن کو براہ راست نشانہ بنایا۔فطرتاََ ان کا الزام تھا کہ کانگریس اور ’’انڈی اتحاد‘‘ مل کر ملک کے اتحاد اور سالمیت کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ 2024 کا لوک سبھا الیکشن حکومت منتخب کرنے کا الکشن نہیں ہے۔ ایک ’’ترقی یافتہ بھارت‘‘ بنانے کا ا لکشن ہے۔ پورا ملک کہہ رہا ہے’’ اب کی بار 400 پار۔‘‘ دوسرا واقعہ دہلی کے رام لیلا میدان میں اپوزین اتحاد’’انڈیا‘‘ کے زیر اہتما ایک میگا ریلی نکالی گئی۔ میگا ریلی میں اپوزیشن اتحاد کا نعرہ تھا’’آمریت ہٹاؤ جمہوریت بچاؤ‘‘۔ریلی میں کانگریس ایم پی راہل گاندھی سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں نے بھی سیدھے طور پر مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنا تے ہوئے کہا’’پی ایم مودی اس الیکشن میں میچ فکس کر رہے ہیں۔ان دنوں آئی پی ایل کے میچ چل رہے ہیں۔ میچ فکسنگ کی اصطلاح آپ سب نے سنی ہو گی۔ جب ایمپائر پر دباؤ ڈال کر اور کھلاڑیوں کو خرید کر کوئی میچ جیتا جائے تو اسے میچ فکسنگ کہتے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات ہمارے سامنے ہیں۔ میچ شروع ہونے سے پہلے ہماری ٹیم کے دو کھلاڑیوں کو گرفتار کر کے اندر ڈال دیا گیا۔ پی ایم مودی اس الیکشن میں میچ فکسنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے’’ 400 پار‘‘ کا نعرہ میچ فکسنگ کے بغیر 80 سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ کانگریس پارٹی اپوزیشن میں سب سے بڑی پارٹی ہے۔ انتخابات کے درمیان ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے بینک اکاؤنٹس بند کر دیے گئے۔ ہمارے تمام وسائل بند کر دئے گئے۔ یہ کیسا الیکشن ہے؟ لیڈروں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ میچ فکسنگ کی کوشش ہے۔ یہ میچ فکسنگ پی ایم مودی اور ملک کے تین چار بڑے ارب پتی مل کر کر رہے ہیں۔ اس میچ فکسنگ کا صرف ایک ہی مقصد ہے۔‘‘ یعنی ایک طرف میرٹھ میں پی ایم مودی اپنے خاص انداز میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی شروعات کر رہے تھے تو دوسری طرف اپوزیشن اتحاد کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھاکہ ملک کا آئین اور ملک کا جمہوری کردار خطرے میں ہے۔پی ایم کا کہنا تھا کہ ملک کو لوٹنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے تو وہ پریشان بھی ہیں اور ہم سے ناراض بھی، جبکہ اپوزیشن کے لیڈروں کا کہنا تھا کہ جس دن پی ایم مودی کی میچ فکسنگ کامیاب ہو گئی ہمارا آئین ختم ہو جائے گا۔ کل پورے دن ملک کے سیاسی حلقوں کی گفتگو انھیں دو واقعات کے ارد گرد گھومتی رہی۔
پی ایم مودی اپنی تقریر میں کہہ رہے تھے ’’جب بھارت دنیا کی 11ویں سب سے بڑی معیشت تھا، ہر طرف غربت تھی، جب ہندوستان پانچویں سب سے بڑی معیشت بنا، 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر نکل چکے تھے۔ میں ضمانت دیتا ہوں کہ ایک بار ایسا ہو جائے تو ملک سے غریبی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بھارت اب تیسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ اس لئے پورا ملک کہہ رہا ہے ’’4 جون کو 400 سو پار۔‘‘ پی ایم نریندر مودی کا کہنا تھا ’’ این ڈی اے حکومت کا 10 سالہ رپورٹ کارڈ سب کے سامنے ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں بہت سے ایسے کام ہوئے، جنہیں ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ لوگوں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو ناممکن سمجھا تھا،تاہم اب مندر بنایا گیا ہے۔ ون رینک، ون پنشن کے حوالے سے بھی کئی وعدے کئے گئے، ہم نے اسے لاگو کیا۔اس کے علاوہ ہم نے اپنی مسلم بہنوں کے لیے تین طلاق کا قانون بھی لایا ۔ ابھی تک آپ نے وکاس کا صرف ٹریلر دیکھا ہے ۔ ہمیں ملک کو بہت آگے لے جانا ہے۔‘‘
دوسری طرف دہلی کے رام لیلا میدان کے منچ سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی، دہلی کے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ سنیتا کیجریوال،جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے رہنما اور جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی اہلیہ کلپنا سورین ،بہار کے سابق نائب وزیر اعلی اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو ،این سی کے سربراہ فاروق عبداللہ ،ایس پی صدر اکھلیش یادو ،این سی پی۔ایس سی پی کے سربراہ شرد پوار، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے،پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان، سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ ، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اورجموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی جیسے رہنما این ڈی اے حکومت کی نیت کی نشاندہی کر رہے تھے۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا ’’ ارب پتیوں کے اشارے پر ملک کے غریب عوام کے ہاتھوں سے آئین ہند چھیننے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جس دن یہ آئین ختم ہو جائے گا، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ملک میں آج 40 سالوں میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح ہے۔ ملک کی ساری دولت ایک فیصد لوگوں کے پاس ہے۔ دو وزرائے اعلیٰ کو جیل میں ڈال دیا وہ بھی انتخابات سے چند ماہ قبل۔ اگر کرنا ہی تھا تو انتخابات کے بعد بھی ہو سکتا تھا۔آپ چاہتے ہیں کہ اپوزیشن الیکشن لڑنے کے قابل نہ رہے اور آپ اقتدار میں رہیں۔‘‘ کیجریوال کی اہلیہ سنیتا کیجریوال نےریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’مودی جی نے میرے شوہر کو جیل میں ڈال دیا۔ آپ کا کیجریوال شیر ہے، اسے زیادہ دنوں تک دیر جیل میں نہیں رکھا جا سکتا ہے۔اگر آپ سب اپوزیش اتحاد کو موقع دیں گے تو ہم مل کر ایک عظیم ملک بنائیں گے۔ انھوں نے کہا بھارت اتحاد صرف نام کا نہیں بھارت ہمارے دل میں ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی اہلیہ کلپنا سورین نے کہا ’’آج یہاں جمع ہونے والا ہجوم گواہی دے رہا ہے کہ آمرانہ طاقتوں نے جس طرح جمہوریت کو تباہ کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، اس کا خاتمہ ہو رہا ہے۔آج بھارت میں بابا صاحب کے آئین سے ملنے والی ضمانتوں کو این ڈی اے حکومت ختم کر رہی ہے۔ بہار کے سابق نائب وزیر اعلی اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کہا’’اس کے مطابق ملک کو تقسیم کرنے کا کام کیا جا رہا ہے، نفرت کی سیاست کی جا رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس لڑائی میں ہمارا ساتھ دیں۔ جو لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ اس بار 400 پار، ان کے پاس کچھ بھی کہنے کا نہیں ہے۔ ملک میں غیر معلنہ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ آج کسان تباہ ہیں، نوجوان پریشان ہیں لیکن وزیر اعظم مودی کے پاس کسانوں سے ملنے کا وقت نہیں ہے۔ ‘‘ این سی کے سربراہ فاروق عبداللہ نے کہا’’آج ہمارا واحد مقصد آئین کو بچانا ہے۔ انسان کو انسان سے لڑنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔‘‘کچھ اسی طرح کی باتیں دیگر رہنماؤں نے بھی کی ساتھ ہی یہ عہد کیا کہ بی جے پی کی سازش کو ناکام کرنا ہے اور اپوزیشن اتحاد کو مضبوط بنانا ہے۔اب ایسے میں یہ دیکھنا ہے کہ پی ایم نریندر مودی اپنےدعوے میں کامیاب ہوتے ہیں یا اپوزیشن اتحاد اپنے دعوے میں کامیاب ہوتا ہے۔ دونوں میں سے کس کے دعوے سچے ہیں اور کس کے جھوٹے یہ تو عوام کو ہی طے کرنا ہے۔