کانگریس کو للکارنے میں بی جے پی پیچھے نہیں

تاثیر،۴       مئی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آخر کار(3 مئی) اتر پردیش کی رائے بریلی لوک سبھا سیٹ سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کر دیا۔ رائے بریلی سیٹ کو کانگریس کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ اس سیٹ کے لئے نامزدگی کی آخری تاریخ  3 مئی ہی تھی ۔اسی دن صبح میں کانگریس نے اپنے امیدوار کے طور پرراہل گاندھی کے نام کا اعلان کیا تھا۔ اس سیٹ پر ووٹنگ پانچویں مرحلے میں 20 مئی کو ہو نے والی ہے۔ 2019 کے انتخابات میں رائے بریلی وہ واحد سیٹ تھی، جس پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی تھی۔ تب اس سیٹ پر سونیا گاندھی نے جیت حاصل کی تھی۔ سونیا گاندھی اس بار انتخابی سیاست کو خیرآباد کہہ کر راجیہ سبھا جانے کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی ہے۔ اب رائے بریلی کی سیاسی وراثت کو بچانے کی ذمہ داری راہل گاندھی کو سونپی گئی ہے۔ یوپی میں اس بار کے انتخابابات میں سماجوادی پارٹی( ایس پی) اور کانگریس اتحاد نے مورچہ سنبھال رکھا ہے۔اُدھر بی جے پی نے بھی ایک مضبوط امیدوار دنیش پرتاپ سنگھ کو میدان میں اتار کر اس سیٹ کو اتر پردیش کی سب سے زیادہ زیر بحث سیٹوں میں سے ایک بنا دیا ہے۔
  رائے بریلی سیٹ کو بیشتر لوگ گاندھی فیملی کی موروثی سیٹ مانتے ہیں۔ ماننے کی وجہ بھی ہے۔1951-52 میں ہو ئے  پہلے لوک سبھا انتخابات میں رائے بریلی اور پرتاپ گڑھ اضلاع پر مشتمل ایک لوک سبھا سیٹ تھی۔ اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی نے یہاں سے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اور جیتا بھی تھا۔ جب رائے بریلی سیٹ 1957 میں وجود میں آئی تو فیروز گاندھی ایک بار پھر یہاں سے ایم پی بنے تھے۔ اندرا اور فیروز گاندھی کی شادی 26 مارچ 1942 کو ہوئی تھی۔ صحافی سے سیاست داں بنے فیروز گاندھی پارلیمنٹ میں اکثر اپنے سسر اور اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو حکومت پر تنقید کرنے کے لئے جانے جاتے تھے۔  فیروز گاندھی کا انتقال 1960 میں ہو گیا۔ اس کے بعد کے ضمنی انتخابات اور1962 کے انتخابات میں گاندھی فیملی کے کسی فرد نے یہاں سے انتخاب نہیں لڑا۔ فیروز گاندھی کی موت کے چار سال بعد اندرا گاندھی 1964 میں راجیہ سبھا پہنچیں۔ اندر گاندھی1967تک راجیہ سبھا کی رکن رہیں۔ 1966 میں جب اندرا ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں تب بھی وہ راجیہ سبھا کی رکن تھیں۔ 1967 میںاندرا گاندھی  نے رائے بریلی سیٹ سے انتخابی سیاست میں قدم رکھا۔ کانگریس امیدوار کے طور پر انھوںنےاپنے حریف اور آزاد امیدوار بی سی سیٹھ کو 21,703 ووٹوں سے شکست دی۔ اس کے بعد 1971 کے لوک سبھا انتخابات ہوئے۔ اس الیکشن میں اندرا گاندھی ایک بار پھر کانگریس کی طرف سے میدان میں تھیں۔  ان کے سامنے یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی کے راج نارائن تھے۔ جب نتائج آئے تو کانگریس کی اندرا کو 1,11,810 ووٹوں سے فاتح قرار دیا گیا۔ تاہم، راج نارائن نے اندرا گاندھی پر سرکاری مشینری کے غلط استعمال اور انتخابی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے انتخابی نتائج کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ راج نارائن کی انتخابی عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے اندرا گاندھی کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اندرا نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور اس بنیاد پر اپنا استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔ چند روز بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اس واقعے کو ملک میں ایمرجنسی کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔
1971کے بعد اگلے لوک سبھا انتخابات 1977 میں ہوئے، جب ملک میں ایمرجنسی کا دور ختم ہوا۔1977 کی جنتا لہر میں رائے بریلی سیٹ سے الیکشن لڑنے والی اندرا گاندھی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ انہیں بھارتی لوک دل کے امیدوار راج نارائن نے   55,202 ووٹوں سے شکست دی۔ اس کے بعد اندرا نے کرناٹک کی چکمگلور سیٹ سے ضمنی انتخاب لڑا اور جیت کر پارلیمنٹ پہنچیں۔  1980 میں اندرا گاندھی نے ایک بار پھر رائے بریلی سے کانگریس کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا۔ اس بار جنتا پارٹی کی راج ماتا وجے راجے سندھیا ان کے سامنے تھیں ، مگر کامیابی اندرا گاندھی کو ہی ملی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں اندرا گاندھی نے رائے بریلی کے ساتھ آندھرا پردیش کی مینڈک (اب تلنگانہ) سیٹ سے بھی کامیابی حاصل کی۔ انتخابات کے بعد، انھوں نے رائے بریلی سیٹ سے استعفیٰ دے دیا اورمینڈک کی رکن پارلیامنٹ  رہیں ۔ 1980 کے بعد بھی اس سیٹ پر کانگریس کا ہی قبضہ رہا اور گاندھی فیملی کے  ارون نہرو  اور اس کے بعد شیلا کول یہاں کی نمائدگی کرتی رہیں۔ شیلا کول اندرا گاندھی کی ممانی  تھیں۔
2004میں جب راہل گاندھی نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا تو سونیا گاندھی نے ان کے لیے امیٹھی سیٹ چھوڑی اور خود رائے بریلی سے الیکشن لڑنا شروع کردیا۔ 2004 کے لوک سبھا انتخابات میں سونیا گاندھی نے ایس پی کے اشوک کمار سنگھ کو 2,49,765  ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔2009 کے لوک سبھا انتخابات میں سونیا گاندھی رائے بریلی سیٹ کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئیں۔ اس انتخاب میں سونیا نے 3,72,165 ووٹوں سے بی ایس پی کے امیدوار آر ایس کشواہاکو ہرایا تھا۔ اس کے بعد 2014 میں بھی سونیا گاندھی نے اس سیٹ سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار انہوں نے بی جے پی کے اجے اگروال کو 3,52,713 ووٹوں سے شکست دی۔ 2019  کی مودی لہر میں بھی انھوں نے بی جے پی دنیش پرتاپ سنگھ  کو ہرا یا تھا۔ حالانکہ جیت کا فرق کم تھا۔
اس بار انتخابی سیاست سے کنارہ کش ہو کر راجیہ سبھا کی رکن منتخب ہونے والی سونیا گاندھی نے 2024 کا لوک سبھا الیکشن نہیں لڑنے کا فیصلہ پہلے ہی کرلیا  تھا۔ اس کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئیں کہ کانگریس سونیا گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی کو رائے بریلی سیٹ سے امیدوار بنا سکتی ہے۔ تاہم، نامزدگی کے آخری دن کانگریس نے راہل گاندھی کو رائے بریلی سیٹ سے میدان میں اتارا ہے۔ان کا مقابلہ بی جے پی کے  دنیش پرتاپ سنگھ سے ہے۔دنیش پرتاپ سنگھ  2019 میں سونیا گاندھی سے ہارے ہوئے ہیں۔اس بار سونیا گاندھی کی انتخابی وراثت کو بچانے کی ذمہ داری راہل گاندھی پر ہے۔ حالانکہ بی جے پی بھی کانگریس کو للکارنے میں پیچھے نہیں ہے۔
******************