اروند کیجریوال کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

تاثیر۲۰      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 20 جون: دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے دہلی ایکسائز گھوٹالے کے ملزم دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی درخواست ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ ڈیوٹی جج نیاے بندو نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔جمعرات کو سماعت کے دوران ای ڈی کی طرف سے پیش ہوئے اے ایس جی ایس وی راجو نے کہا کہ 45 کروڑ روپے حوالا کے ذریعے دیے گئے تھے جس کا استعمال عام آدمی پارٹی نے گجرات انتخابات میں کیا تھا۔ چن پریت سنگھ نے کیجریوال کے گوا کے سیون اسٹار ہوٹل میں قیام کے لیے پیسے لیے۔ راجو نے ساگر پٹیل کا بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ چنپریت سنگھ سمیت تین لوگوں نے رقم حاصل کی۔ چن پریت سنگھ کو بھاری رقم ملی جو سیون اسٹار ہوٹل میں کیجریوال کے قیام اور گوا کے انتخابات میں خرچ کی گئی۔ ای ڈی آن ایئر کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔ ای ڈی نے دیے گئے کرنسی نوٹوں کی تصویریں برآمد کی ہیں۔ ونود چوہان نے چن پریت اور دوسرے لوگوں کو پیسے دینے کی ہدایت دی تھی۔ ونود چوہان کے فون سے کرنسی نوٹوں کی تصویریں ملی ہیں۔ چن پریت ونود چوہان سے مسلسل فون پر بات کرتا تھا۔ ونود چوہان کے کیجریوال سے اچھے تعلقات تھے۔ راجو نے ونود چوہان اور کیجریوال کی بات چیت کا ذکر کیا۔
راجو نے کہا کہ کیجریوال کہتے ہیں کہ ان کا فون اہم ہے، میں پاس ورڈ نہیں دوں گا۔ ای ڈی کو ونود چوہان کا فون لینا پڑا۔ راجو نے کہا کہ منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 70 کے مطابق اگر عام آدمی پارٹی نے کوئی جرم کیا ہے اور کجریوال عام آدمی پارٹی چلا رہے ہیں تو وہ اس جرم کا ملزم تصور کیا جائے گا۔ آرٹیکل 70 ان پر لاگو ہوتا ہے کیونکہ وہ عام آدمی پارٹی چلاتے ہیں۔
کیجریوال کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل وکرم چودھری نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات اگست 2022 میں شروع ہوئی تھی۔ ای ڈی کے پاس جولائی 2023 تک کیجریوال کے خلاف کچھ ثبوت تھے، لیکن انہوں نے اکتوبر 2023 میں پہلا سمن جاری کیا۔ کیجریوال کو سی بی آئی نے گواہ کے طور پر بلایا تھا۔ 12 جنوری کو ای ڈی نے ایک ای میل بھیجا۔ اس ای میل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کجریوال کو عام آدمی پارٹی کا کنوینر کہا جا رہا ہے۔ انتخابات کا اعلان 16 مارچ کو ہوتا ہے اور اسی دن سمن جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ کیس 20 مارچ کو ہائی کورٹ میں درج ہے اور ہائی کورٹ ای ڈی کو نوٹس جاری کرتی ہے۔ 21 مارچ کو ہائی کورٹ نے کوئی عبوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد 21 مارچ کی شام کو ای ڈی نے کیجریوال کو گرفتار کر لیا۔
19 جون کو عدالت نے کیجریوال کی عدالتی حراست میں 3 جولائی تک توسیع کر دی تھی۔ اس سے پہلے 5 جون کو عدالت نے کیجریوال کی سات دن کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے تہاڑ جیل انتظامیہ کو کیجریوال کی صحت سے متعلق ضروری ٹیسٹ کرانے کی ہدایت دی تھی۔ فیصلہ سنانے کے دوران کیجریوال کے وکیل نے ان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تب عدالت نے کہا تھا کہ جب بھی آپ کو صحت سے متعلق کوئی پریشانی ہو تو آپ عدالت آ سکتے ہیں۔

30 مئی کو عدالت نے کیجریوال کی عبوری اور باقاعدہ ضمانت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ای ڈی کو نوٹس جاری کیا تھا۔ 29 مئی کو سپریم کورٹ نے کیجریوال کی سات دن کی عبوری ضمانت کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ چونکہ کیجریوال کی گرفتاری کو چیلنج کرنے کا فیصلہ پہلے ہی محفوظ ہے۔ اس لیے کیجریوال کی عبوری ضمانت میں توسیع کی عرضی کا مرکزی عرضی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے انہیں باقاعدہ ضمانت کے لیے ٹرائل کورٹ جانے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ 10 مئی کو سپریم کورٹ نے کیجریوال کو یکم جون تک عبوری ضمانت دی تھی اور انہیں 2 جون کو خودسپردگی کا حکم دیا تھا۔ کیجریوال نے 2 جون کو خود سپردگی کی۔