اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی کے لیے فاصلے کم کر رہے ہیں: قطر

تاثیر۲۲      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

دوحہ،22جون:قطر, اسرائیل اور حماس کی جنگ بندی کے لیے دونوں کے درمیان ‘ پل بننے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ جنگ بند ہو اور اسرائیلی یرغمالی رہا ہو سکیں۔’ اس امر کا اعلان دوحہ نے گذشتہ روز کیا۔بتایا گیا ہے اس مقصد کے لیے مسلسل مذاکراتی عمل جاری ہے۔ خیال رہے قطر ، امریکہ اور مصر پچھلے کئی ماہ سے مذاکراتی عمل میں مصروف ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کو اس جنگ کے لیے اسلحہ بھی سب سے زیادہ امریکہ نے دیا ہے، تین بار جنگ بندی کی قرار داد کو سلامتی کونسل میں امریکہ نے ہی ویٹو بھی کیا ہے لیکن امریکہ ثالثی کی کوششوں کو بھی دیکھ رہا ہے۔ اب تک غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 37431 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
سات اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اس جنگ میں صرف ایک ہفتے کے لیے مگر کئی وقفوں کے ساتھ جنگ بندی ممکن ہو سکی ہے۔ ماہ نومبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایک سو سے زائد اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے گئے تھے۔ مگر اس کے بعد کوئی جنگی وقفہ ممکن نہیں بننے دیا گیا کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے حماس کا مکمل خاتمہ کیے بغیر جنگ بندی نہیں کرنا ہے۔قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے میڈرڈ میں سپین کے وزیر خارجہ ک جوز مینوئل الباریس کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا ‘ہم نے پچھلے چند دنوں سے کسی خلل کے بغیر جنگ بندی کے لیے کوشش جاری رکھی ہوئی ہیں۔’ شیخ عبدالرحمان آل ثانی کے مطابق ‘اب تک حماس کی قیادت کے ساتھ کئی اجلاس ہو چکے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ فریقین کے درمیان فاصلے کو کم کیا جا سکے اور ایک معاہدے تک پہہنچ جائیں۔ تاکہ جنگ بندی ہوا اور یرغمالی رہا ہو سکیں۔’
خیال رہے یہ تازہ مذاکراتی کوششیں امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے کے بعد سے اس کی بنیاد پر شروع ہوئی ہے۔ جو بائیڈن کا یہ تین مراحل پر مبنی منصوبہ 31 مئی کو سامنے لایا گیا تھا۔وزیر اعظم قطر نے کہا ‘ کوششیں جاری ہین مگر ہم ابھی کسی ایسے فارمولے کے قریب نہیں پہنچ سکے ہیں جو دونوں اطراف کے لیے ان کی پوزیشن کے قریب تر اور مناسب تر ہو۔ جیسے ہی یہ معاہدہ ممکن ہو گیا ہم اسے عوام کے سامنے لے آئیں گے۔