اسرائیل کی طرف سے غزہ کو پانی کی فراہمی میں اضافے کی امید

تاثیر۲۷      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

غزہ،27جون:اسرائیل کے ایک سکیورٹی اور مغربی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ غزہ میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے اسرائیل پر مغربی اتحادیوں کی طرف سے دباؤ ہے جس کی بنا پر وہ سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے ایک پلانٹ کو بجلی فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ یہ غزہ کی پٹی میں لوگوں کے لیے زیادہ پانی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔مغربی امدادی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے کے جواب میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد سے غزہ کے لاکھوں افراد کو خوراک اور پانی کی کمی اور صفائی نہ ہونے کے مسائل درپیش ہیں۔
واشنگٹن اور دیگر اتحادی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ فوجی جارحیت کو کم کرے اور انسانی بحران سے نجات کے لیے مزید امداد اور رسد کی اجازت دے۔دونوں ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی منصوبہ جس کی تفصیلات رائٹرز کو دکھائی گئیں، یہ ہے کہ خان یونس میں پانی صاف کرنے کی ایک بڑی سہولت کو اسرائیل سے براہ راست بجلی فراہم کی جائے۔
یہ سہولت 2017 میں اقوامِ متحدہ کی فنڈنگ سے دیر البلح، خان یونس اور مواسی کے علاقوں میں پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی جہاں سے غزہ کے کئی باشندے لڑائی کی وجہ سے نقلِ مکانی کر چکے ہیں۔اس سہولت کی پیداواری صلاحیت روزانہ تقریباً 20,000 کیوبک میٹر پانی کی ہے جبکہ آج یہ سہولت بجلی کی کمی کی وجہ سے صرف 1,500 کیوبک میٹر فراہم کرتی ہے۔ غزہ بجلی کی زیادہ تر فراہمی کے لیے اسرائیل پر انحصار کرتا ہے۔ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے بجلی منقطع ہے۔اسرائیلی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آبی پلانٹ کو بجلی کی منصوبہ بندی سے صرف دس لاکھ سے کم لوگوں کو پانی فراہم ہو سکتا ہے۔ذریعے نے اس بات کی کوئی آخری تاریخ نہیں دی کہ بجلی کی فراہمی کب بحال ہو گی۔ موجودہ بجلی جنریٹرز اور شمسی ذرائع سے آ رہی ہے۔
ذریعے نے بتایا کہ اس منصوبے کی منظوری اسرائیلی وزیرِ اعظم اور اسرائیلی وزیرِ دفاع دونوں نے دی ہے لیکن حکومت کے دیگر وزراء سے بدستور منظوری درکار ہے۔ذریعے نے تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا، “ایسی بھی جماعتیں ہیں جو اس عمل کو منسوخ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے تبصرہ کرنے کی درخواست سے انکار کر دیا۔ اس منصوبے سے واقف ایک مغربی اہلکار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ پلانٹ کی بجلی بحال کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔اہلکار نے بتایا کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ نے بجلی کی دوبارہ بحالی کی منظوری دی جب اس ماہ کے شروع میں امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل میں ان سے ملاقات کی۔اہلکار نے کہا، “اسرائیلی اپنی طرف سے تیار ہیں۔ اس وقت فلسطینی انجینئرز پٹی کے اندر لائن کی سالمیت کی جانچ کر رہے ہیں۔”اہلکار نے کہا، اس لائن پر بجلی بحال کرنا جو پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو چلاتی ہے، یہ غزہ میں پانی کا بحران ختم کرنے میں ایک اہم عنصر تو ہے لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔اہلکار نے کہا کہ صفائی کے نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے سامان لانے کی بدستور ضرورت تھی اور اس میں لڑائی کی وجہ سے رکاوٹ تھی۔