اکبر نگر انہدامی کارروائی: راج ناتھ، دانش انصاری، دنیش شرما کسی سے بھی مدد نہیں ملی، مدرسے و مسجد کے بانی کا بیان

تاثیر۱۲      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

لکھنو، 12 جون :لکھنوکے اکبر نگر میں دوسرے دن بھی بلڈوزر کی کارروائی جاری رہی۔ بلڈوزر نے سینکڑوں مکانوں کو منہدم کر دیا۔ اکبر نگر میں واقع چار مسجدیں اور کئی مدارس بھی زد میں ہیں۔ اکبر نگر میں مدرسہ اہل سنت نور اسلام، ایف زیڈ پبلک اسکول، محمدیہ مسجد، مدرسہ فاطمہ زہرا للبنات کو تعمیر کروانے والے قاری روشن نے ای ٹی وی بھارت سے بات چیت کرتے ہوئے بہت سخت مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ برسر اقتدار بی جے پی کے اعلیٰ رہنماؤں سے متعدد بار ملاقات کی لیکن کوئی بھی مدد نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ مدرسہ اہل سنت نور الاسلام سے گزشتہ برس 37 طلبہ فارغ ہوئے۔ جس میں سے 30 بچے قرآن حفظ کیے تھے اور سات قرات کے شعبے سے فارغ ہوئے تھے اور اس پروگرام میں اقلیتی امور کے وزیر مملکت دانش آزاد انصاری بھی شرکت کیے تھے۔ اس طرح کے ہر سال کئی درجن طلبہ و طالبات ہمارے مدرسے سے تعلیم حاصل کر کے پاس آؤٹ ہوتے تھے لیکن اب اس مدرسے پر خطرے کا سایہ منڈلا رہا ہے اور اندیشہ ہے کہ اسے چند ہی دن میں منہدم کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 کروڑ کے خرچ سے غریب بچوں کی تعلیم کے لیے مدرسہ تعمیر کروایا تھا۔ مدرسہ فاطمۃ الزہرا للبنات میں سینکڑوں غریب بچیاں تعلیم حاصل کرتی تھیں، لیکن اب نہ مدرسہ رہے گا نہ مسجد رہے گی۔ نہ بچیوں کے مدرسے رہیں گے۔ سبھی کو منہدم کر دیا جائے گا۔ جو ہمارے لیے بہت بڑے صدمے کا سبب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج سے 25 برس پہلے اس مدرسے کی تعمیری بنیاد رکھی تھی وہ آج ایک عالی شان تعلیمی ادارے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ لیکن آج مجھے بلایا گیا ہے کہ مدرسے کو جلدی خالی کر دیں اسے بلڈوزر کی کارروائی کر کے منہدم کرنا ہے۔ مجھے رات میں نیند نہیں آتی دن میں کھانا نہیں کھایا جاتا۔ ہزاروں بچے جو تعلیم حاصل کر رہے تھے وہ تعلیم سے یتیم ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن داخل کیا، جس کو مکمل بنچ سماعت کرے گی۔ لیکن ابھی تک سماعت نہیں ہوئی، ہائی کورٹ میں لکھنو? ڈیولپمنٹ اتھارٹی اپنا جواب نہیں داخل کر رہی ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی۔ انہوں نے بھی یقین دہانی کرائی کہ کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ اتر پردیش اقلیتی امور کے وزیر مملکت دانش آزاد انصاری سے بھی ملاقات کی۔ منت و سماجت کی۔ لیکن کہیں سے راحت کی خبر نہیں آئی۔ کوئی مدد نہیں ملی۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2017 میں جب رام مندر کے سلسلے میں عدالت میں کیس زیر سماعت تھا۔ اس دوران بھی اندریش کمار نے پروگرام کیا تھا وہاں بھی گیا تھا۔ ہم ہمیشہ گنگا جمنی تہذیب، آپسی بھائی چارہ کے ساتھ یہاں پر رہے ہیں۔ کبھی کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔ یہاں اگر 50 فیصد مسلم آباد تھے تو 50 فیصد ہندو آباد تھے۔ لیکن بلا تفریق ملت و مذہب سبھی کے مکان کو منہدم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ روڈ کے کنارے خود ہم نے ایل ڈی اے سے باب اعلیٰ حضرت تعمیر کرانے کے لیے منظوری لی تھی۔ لکھنو? ڈی ایم نے جانچ کرایا تھا۔ جس کے بعد گیٹ تعمیر بھی کر دیا گیا۔ اس روڈ پر ہم نے شیوپال سنگھ یادو سے روڈ تعمیر کے لیے منظوری دلوائی، روڈ بھی بنا، تقریباً 20 بجلی کے کھمبے لگائے گئے۔ خود اتر پردیش کے نائب وزیراعلیٰ دنیش شرما نے بھی یہاں پر کئی ترقیاتی کام کیے۔انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی اہلیہ آتی ہیں، جہاں میں امامت کرتا ہوں، وہاں وہ مزار شریف پر آتی ہیں اور ان کے لیے میں دعا کرتا ہوں۔ یہ تمام چیز ہونے کے باوجود بھی لکھنومیونسپل کارپوریشن اور لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی 16 بلڈوزر لگا کر کے سبھی کے مکان یکے بعد دیگرے منہدم کر رہی ہے اور اندیشہ ہے کہ مسجد اور مدرسے اور مندر پر بھی بلڈوزر چل جائے گا۔