اگلے سات دنوں میں اتر پردیش سمیت شمالی ہندوستان میں گرمی سے کوئی راحت ملنے کی امید نہیں

تاثیر۱۳      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

کانپور، 13 جون :گلے سات دنوں میں شمالی ہندوستان کے میدانی علاقوں میں چلچلاتی گرمی سے راحت ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ یہ شدید گرمی اس ہفتے کے آخر تک جاری رہ سکتی ہے۔ یہ معلومات چندر شیکھر آزاد یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہر موسمیات ڈاکٹر ایس این سنیل پانڈے نے جمعرات کو دی۔
انہوں نے کہا کہ پورے اتر پردیش، پنجاب، ہریانہ اور شمالی راجستھان، دہلی سمیت کانپور ڈویژن میں گرمی جاری رہے گی۔ بعض مقامات پر درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر سکتا ہے۔واضح ہو کہ مشرقی ریاستیں بہار اور جھارکھنڈ بھی شدید گرمی کی زد میں ہیں اور درجہ حرارت 40 کو پار کر رہا ہے۔ماہر موسمیات نے کہا کہ کمزور ویسٹرن ڈسٹربنس پہاڑی ریاستوں میں اوپری ہوا کیسسٹم کی شکل میں بغیر کسی خاص اثر کے آگے بڑھ رہا ہے۔ شمالی پہاڑوں کے کچھ حصوں تک گرمی کی لہر پہنچ گئی ہے۔ بانہال، بھدرواہ، چمبہ، دھرم شالہ، کلو، منڈی، نینی تال، ٹہری علاقوں میں درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیس سے اوپر ہے، جو کہ پہاڑوں میں گرمی کی لہر کا پیمانہہے۔ خشک اور گرم شمال مغربی ہوائیں شمالی ہندوستان کے میدانی علاقوں میں چلتی ہیں، جوسرحد پار سے گرمی لاتی ہیں۔
ڈاکٹر پانڈے نے کہا کہ سرحدی لائن کے ساتھ پنجاب کے کچھ حصے اور راجستھان سے متصل ہریانہ کے علاقے باقی علاقوں سے زیادہ گرم ہیں۔ پٹھان کوٹ، گرداسپور، امرتسر، بھٹنڈہ، فیروز پور، فاضلکا، حصار، نارنول، روہتک، سرسا، کروکشیتر، گنگا نگر، سورت گڑھ، انوپ گڑھ، بلند شہر، علی گڑھ، ہمیر پور،پریاگراج ، فرصت گنج اور وارانسی میں پارہ 43 ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہے۔ ان میں سے کانپور میں بدھ کو 44.8 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
آنے والے سات دنوں کے دوران پورے شمالی ہندوستان میں گرمی کا قہر جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی گرمی کا اثر بھی کچھ علاقوں میں سنگین ہو سکتا ہے۔ 14 اور 15 جون کو پنجاب کے دامنی علاقوں اور شمالی راجستھان کے کچھ حصوں میں الگ الگ دھول بھری آندھی اور طوفان کا امکان ہے۔ تاہم موسم کی یہ سرگرمی خطے میں چلچلاتی گرمی سے راحت فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔