تربیت کارکردگی میں چار چاند لگا دیتی ہے۔ رضوان احمد اصلاحی، امیر حلقہ بہار

 

پٹنہ:  13؍ جون ، : تربیت ایک ہمہ جہت عمل ہے۔ جس طرح علاج سے بوڑھے جوان جیسا اور بیمار صحت مند ہو جاتے ہیںاسی طرح تر بیت سے افراد کی زندگی میں چار چاند لگ جاتے ہیں اور کارکردگی میں حد درجہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ جماعت اسلامی ہند حلقہ بہار میں منعقد چار روزہ تربیت گاہ کو خطاب کرتے ہوئے امیر حلقہ بہار مولانارضوان احمد اصلاحی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تربیت کا عمل علم سر جری سے ملتا جلتاہے۔ جس طرح ایک سرجن انسانی جسم سے مرض کو کاٹ کر باہر نکال دیتا ہے اسی طرح تر بیت کے ذریعہ افراد منفی اثرات سے پاک ہو کر صحت مندانہ افکار و اعمال کا پابند ہو جاتے ہیں۔
تربیت گاہ کا انعقاد جماعت اسلامی ہند کے کارکنوں کی علمی، اخلاقی و فکری تربیت کے لیے 7 جون سے 10 جون تک دفتر حلقہ بہار میں کیا گیا۔ پروگرام کی نگرانی جماعت اسلامی ہند بہار کے شعبہ تربیت گاہ کے ذمہ دار ماسٹر نظیر احمد صاحب نے فرمائی تھی۔ پروگرام میں شریک کارکنوں کو دین کا صحیح فہم حاصل کرنے پر زور دیا گیا، ساتھ ہی نصب العین اور مقصد حیات کی طرف غیر معمولی توجہ دلائی گئی۔ اس کے علاوہ مشقی درس قران و مشقی درس حدیث اور تقاریر کے ذریعہ قران و سنت کو سمجھنے اور اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی تر بیت دی گئی جس کا فوری فائدہ یہ ہوا کہ درس اور تقریر کی صلاحیت کو فروغ حاصل ہوا۔ پروگرام میں جماعت اسلامی کے دستور اور چار سالہ میقاتی منصوبہ کی وضاحت بھی کی گئی اور بتایا گیا کہ جماعت اسلامی ہند چاہتی ہے کہ اسلام کے تعلق سے مثبت رائے عامہ ہموار ہو۔ امت مسلمہ اقامت دین کے نصب العین کوشعوری طور پر خود بھی اپنا ئیں اور اس کی آبیاری بھی کریں۔پروگرام میں جماعت کے کئی بنیادی لٹریچرس کو زیر مطالعہ لایا گیا اور اس سے علمی مباحثہ کا موضوع بنایا گیا۔ امیر حلقہ بہار مولانا رضوان رضوان احمد اصلاحی صاحب،جناب نظیر احمداور جماعت اسلامی ہند کے سابق مرکزی ذمہ دار مولاناعبدالسلام اصلاحی مدنی صاحب، سکریٹری حلقہ بہار جناب نثار احمد صاحب، مولانا لطف اللہ قادری صاحب، مولانا انتخاب عالم شمسی فلاحی صاحب ،مولانا غلام سرور ندوی صاحب اس پروگرام کے ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکاء کو استفادہ کا موقع عنایت فرمائے ۔
آخیر میںشرکاء کی عملی صلاحیت کو پرکھنے کے لیے ایک امتحان کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں سبھی شرکاء نے حصہ لیا اور ان کے نمبرات کے لحاظ سے انہیں انعامات سے نوازا گیا۔ پروگرام کے اختتام پر شرکانے عمومی و تحریکی سوالات کیے جن کا جواب امیر حلقہ اور مولانا عبدالسلام اصلاحی مدنی نے دیا بعد ازاں شرکاء نے اپنے تاثرات کا بھی اظہار کیاکہ اس شدید گرمی میں چار دن کیسے گذرے پتا نہیں چلا ، انشاء اللہ اپنے مقام پر لوٹ کر حتی المقدور اقامت دین کی سرگرمی انجام دینے کی کوشش کروں گا۔پروگرام امیر حلقہ کے زاد راہ اور دعا پر ختم ہوا ۔امیر حلقہ نے بتایا کہ کوئی بھی ٹریننگ اسی وقت مفید ہوتی ہے جب اس کا عملی زندگی میں مظاہرہ ہو۔ آپ نے مثالوں سے سمجھایا کہ ٹریننگ اور تر بیت بذات خود مقصد نہیں ہے بلکہ جو کچھ آپ نے سیکھا ہے اس کو اپنے مقام پر اس کے مطابق عمل کیجیے۔اس سے ہم تحریک کے لیے خصوصی طور پر اور امت مسلمہ کے لیے عمومی طور پر مفید ثابت ہو سکتے ہیں اور دنیا و اخرت میں فلاح و کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔