دہشت گردوں کی تلاش کے لیے جموں خطے میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری

تاثیر۱۳      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

سرینگر، 13 جون :جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع، خاص طور پر ڈوڈہ اور ریاسی میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم جاری رہی، تاکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں حالیہ حملوں میں ملوث دہشت گردوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ گزشتہ چار دنوں میں ریاسی، کٹھوعہ اور ڈوڈہ اضلاع میں چار مقامات پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس میں نو یاتری اور ایک سی آر پی ایف جوان ہلاک اور سات سیکورٹی اہلکار اور کئی دیگر لوگ زخمی ہوئے۔ کٹھوعہ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں دو مشتبہ پاکستانی دہشت گرد بھی مارے گئے اور ان کے پاس سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔حکام کے مطابق، فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ضلع ڈوڈہ کے گنڈوہ، چٹاگلہ اور ملحقہ علاقوں میں کوٹا ٹاپ میں صبح دوبارہ تلاشی آپریشن شروع کیا جہاں منگل اور بدھ کی درمیانی شب دہشت گردوں کے ساتھ الگ الگ فائرنگ میں دو پولیس اہلکاروں سمیت سات سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
حکام نے بتایا کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کے ساتھ اب تک کوئی نیا رابطہ نہیں ہوا ہے۔پولیس نے بدھ کو ضلع میں دو حملوں میں ملوث چار دہشت گردوں کے خاکے جاری کیے تھے اور ان کی گرفتاری کی اطلاع دینے پر 20 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔اس سے قبل، پولیس نے 20 لاکھ روپے کے نقد انعام کا اعلان کیا تھا اور اتوار کو ریاسی ضلع میں یاتریوں کو لے جانے والی بس پر حملے میں ملوث دہشت گردوں میں سے ایک کا خاکہ جاری کیا تھا جس میں 9 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوئے تھے۔حکام نے بتایا کہ ریاسی کے ساتھ ساتھ ملحقہ راجوری ضلع میں تلاشی مہم جاری ہے۔ راجوری کے نوشہرہ اور اس سے ملحقہ پونچھ میں بھی تلاشی لی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات کے پیش نظر کٹھوعہ، سانبہ اور جموں اضلاع میں بھی سیکورٹی فورسز کو الرٹ رکھا گیا ہے۔کٹھوعہ میں منگل کی رات سے شروع ہونے والی اور 15 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی شدید فائرنگ کے تبادلے میں سیکورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو مار گرایا۔ آپریشن میں سی آر پی ایف کا ایک جوان بھی شہید ہو گیا جبکہ ایک شہری زخمی ہوا۔پولیس نے بدھ کے روز ایک ایڈوائزری جاری کی تھی، جس میں جموں خطے کے رہائشیوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ مشکوک افراد اور اشیاء￿ کی نقل و حرکت کے حوالے سے چوکس رہیں۔یہ ایڈوائزری انٹیلی جنس معلومات کے بعد جاری کی گئی تھی جس میں راجوری اور جموں اضلاع کے کچھ حصوں میں دہشت گردی کے خطرے کے امکان کی نشاندہی کی گئی تھی۔