رائے پور کی مین سڑک پر چلنا ہُوا مُشکل، اِنسان تو دور جانور بھی اب شرمائے

تاثیر۲۸      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

سیتا مڑھی (مظفر عالم)
بارش کے بعد شہر سے گاؤں کی سڑکوں کی حالت  وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔  بعض اوقات سڑکوں پر گڑھوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے، بعض مقامات پر نالیوں کی کمی کی وجہ سے سڑکوں پر پانی بھڑ جاتا ہے۔  جس کی وجہ سے آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  بارش کے بعد سڑکیں بھی خراب ہونے لگتی ہیں۔  جو اس کے معیار کو بھی عیاں کرتا ہے۔  بارش کے موسم میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے معصوم بچوں کو اسکول جانے میں کافی مُشکل جھیلنا پڑتا ہے اور پیدل چلنے والے مسافروں کو خاصا اثر پڑتا ہے۔  مقامی لوگوں کے مطابق گاوں کے سڑکوں میں ٹھیکیداروں کی طرف سے من مانی کی جاتی ہے۔  جس کی وجہ سے سڑک بننے کے چند ہی دنوں میں ان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔  نان پور بلاک کے رائے پور کے سڑک کو آپ دیکھ سکتے ہیں، اِنسان تو دور کی بات ہے اب جانوروں کو چلنا اِس سڑک پر مشکل ہوگیا ہے اور دیگر مقامات کی سڑک جیسے گوری سے رائے پور بازار ہوتے ہوئے بنول تک کی سڑک چلنے لائق نہیں ہے یہ سڑک کبھی بھی بڑے حادثات کو دعوت دی سکتی؟  اسلام پور چوک سے باتھ اصلی، فیض پور، پوکھريرا تک، موراہا پل سے مدنی پور بازار ہوتے ہوئے ٹیکا بازار تک سڑک چلنے لائق نہیں ہے، رائے پور کی گلیوں کی حالت بھی اس سے بہتر نہیں ہے۔  بارش کے موسم میں سڑکوں کے گڑھوں میں اِس طرح پانی رہتی ہے کہ پتہ نہیں چلتا  لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر میں معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔  جس کی وجہ سے چند دنوں میں ان کی حالت خراب ہونے لگتی ہے۔  عوام کا پیسہ ٹھیکدار اور انجینئر کے ہاتھ میں جاتا ہے۔  اس طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ نزہت جہاں نے کہا کہ رائے پور مہارانی استھان سے باتھ اصلی کی سڑکیں اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ پانچ سال میں مکمل ہو جاتی ہیں۔ لیکِن اک سال ہوتے ہی وہ سڑک چلنے لائق نہیں رہتی اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے سڑکوں کے ساتھ دیگر تعمیراتی کام بھی کئے جاتے ہیں۔ اب دیکھنا دِلچسپ ہوگا کہ رونی سید پور ممبر اسمبلی رائے پور کی سڑک پر خیال کب کرتے ہیں، نزہت جہاں نے کہا کہ رائے پور کی مین سڑک پر اب جانور بھی نہیں چل سکتا، یہاں ڈبل انجن کی سرکار ہے وزیر اعلی کے ممبر اسمبلی پنکج مشرا مکمل خاموشی اختیار کر چکے ہیں، اب تک ممبر اسمبلی نے 100 دفعہ سے بھی زیادہ جھوٹ پر جھوٹ بول کر نکل جاتے ہیں،