رفح آپریشن دو ہفتوں میں ختم ہوسکتا، مصری سرحد پر قبضہ برقرار رہے گا: اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ

تاثیر۱۶      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

غزہ،16جون:اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے اندازہ لگایا ہے کہ رفح میں فوجی آپریشن دو ہفتوں کے اندر ختم ہو جائے گا۔ زیادہ تر شہریوں کو رفح سے نکال لیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی سطح رفح آپریشن کے خاتمے کے بعد فیصلہ کرے گی کہ مرکزی محاذ جنگ غزہ ہوگا یا لبنان۔ سینئر اسرائیلی سکیورٹی حکام نے اندازہ لگایا ہے رفح میں آپریشن ختم ہونے میں چند ہفتے لگیں گے اور یہ کہ ہم ایک اہم دوراہے پر پہنچ گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ہم جلد غزہ میں دوسرے مرحلے کے اختتام تک پہنچ جائیں گے اور موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہمارے پاس یرغمالی کو چھڑانا باقی ہے اور صورتحال کے کامیابی سے ناکامی کا رْخ کرنے کے تناظر میں دوسرے مرحلے میں جانے کے لیے حماس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ یہاں اغوا کار موجود ہیں اور ہم حماس کا متبادل پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ حماس کے خاتمے کا مطالبہ کرنا سیاست نہیں ہے۔ دوسرے مرحلے کے اختتام پر علاقائی سیاسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہم نٹساریم کوریڈور، فلاڈیلفیا کوریڈور اور رفح کراسنگ کا کنٹرول اس وقت بھی برقرار رکھیں گے جب اسرائیلی فوج اپنی سرگرمیاں ختم کر دے گی۔رپورٹ میں ایک سینئر سیاسی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ جب تک حماس کو ختم نہیں کیا جاتا کوئی بھی میکنزم غزہ میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ ہم مذاکرات میں اہم کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ جنگ کے آٹھ محاذ ہیں اور ہمیں آٹھوں محاذوں پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔اس تناظر میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ آسٹن نے برسلز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ انہوں نے اپنے اسرائیلی ہم منصب یوو گیلنٹ کو مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور حماس سے شہریوں کو الگ کرنے کی ضرورت ہے۔امریکی وزیر دفاع آسٹن نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام کے ساتھ ان کی بات چیت میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے اسرائیل کی دلچسپی کے ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر بمباری کرکے اسے تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ گروپ آف سیون کے رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے اداروں بشمول اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین )انروا( کو غزہ کی پٹی میں بلا رکاوٹ کام کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ غزہ میں انسانی بحران گہرا ہوتا جارہا ہے۔جمعہ کے روز عینی شاہدین نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی۔ غزہ کی پٹی ایک بڑے انسانی بحران سے دوچار ہے اور وہاں قحط کا خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی 24 لاکھ کی آبادی میں سے 75 فیصد بے گھر ہوگئی ہے۔اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیوں کو خاص طور پر جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح پر مرکوز کر رکھا ہے۔ ساتھ ساتھ پٹی کے دیگر مقامات پر بھی بمباری جاری ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے جمعہ کو رفح کے وسط اور مغرب میں واقع محلوں پر فائرنگ کی۔ تحریک حماس کے فوجی دستے نے اطلاع دی ہے کہ القسام بریگیڈز رفح شہر کے تال السلطان محلے کے جنوب مغرب میں گھسنے والی دشمن کی فوجوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔