سپریم کورٹ نے نرسنگ فراڈ کیس میں ہائی کورٹ کے حکم پر مداخلت کرنے سے کیا انکار

تاثیر۱۵      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

جبل پور، 15 جون،: سپریم کورٹ نے نرسنگ فراڈ کیس میں ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ نرسنگ فراڈ کیس کی جانچ کے لیے جبل پور کے درخواست گزار لاء اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ وشال بگھیل کی درخواست پر ہائی کورٹ نے سی بی ا?ئی کے ذریعہ سٹیبل پائے گئے 169 کالجوں کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد تقریباً دو درجن کالجوں نے ایم پی ہائی کورٹ کے 30 مئی کے دوبارہ جانچ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ سٹیبل پائے گئے 169 کالجوں کی دوبارہ جانچ کا حکم دینے کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے جوڈیشل افسران کو بھی جانچ میں شامل کیا تھا۔ ہائی کورٹ میں 30 مئی کو ہونے والی سماعت میں عرضی گزار لاء￿ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ وشال بگھیل کی جانب سے ایک درخواست پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سی بی ا?ئی کی جانچ میں بے ضابطگیوں اور رشوت کا معاملہ سامنے ا?نے کے بعد جانچ کو سٹیبل پائے جانے والے کالجوں میں سے متنازعہ اور مشکوک ہو گیا ہے۔
اس پر ہائی کورٹ نے سی بی ا?ئی کو سٹیبل پائے جانے والے 169 کالجوں کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا تھا، اس کے ساتھ ہی متعلقہ ضلع کے عدالتی افسران کو بھی شرکت کرنے اور ویڈیو گرافی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کو پرائیویٹ نرسنگ کالجوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اب اس پٹیشن کے خارج ہونے سے ہائی کورٹ کے حکم پر جمود برقرار رہے گا۔