غزہ جنگ رکوانے کے معاہدے پر حماس نے انتہائی لچک دکھائی: اسماعیل ہینہ

تاثیر۱۶      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

دوحہ،16جون:اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے پولٹ بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو گھٹنے نیکنے پر مجبور کر رہا ہے، لیکن اسرائیلی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے فلسطینی آج بھی ثابت قدم ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے غزہ میں جاری شدید جنگ کے ماحول میں عید الاضحیٰ کے پہلے دن اپنے ریکارڈ شدہ خطاب کیا۔
فلسطینیوں کو درپیش مشکلات اور ابتلاؤں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا “کہ غزہ کی پٹی اور مقبوضہ غرب اردن کے فلسطینیوں کو کڑے محاصرے کا سامنا ہے، لیکن وہ ان تمام مشکلات کے باوجود ثابت قدم ہیں۔ سات اکتوبر کے آپریشن کے نتائج چہار سو نمایاں ہو رہے ہیں۔حماس کے رہنما کا کہنا تھا کہ “ان کی تنظیم نے جنگ روکنے کی خاطر معاہدے کے سلسلے میں انتہائی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ سکیورٹی کونسل میں منظور کی جانے والی جنگ بندی قرار داد کے حوالے سے حماس کا موقف انتہائی مثبت تھا، تاہم اسرائیل نے اس کا جواب نہیں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم فائر بندی معاہدے کے ثالثوں کے کردار پر تکیہ کیے ہوئے ہیں تاکہ وہ سیز فائر معاہدے کو حتمی شکل دے سکیں۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت ایسے معاہدے کے لیے تیار ہے جس سے مکمل فائر بندی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے مکمل اںخلا کی راہ ہموار ہوتی ہو۔اسماعیل ہنیہ نے کہا ’’کہ جاری جنگ کا خاتمہ اور قضیے کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہو گا جس سے ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو، چاہئے اس تک پہنچنے میں اسرائیل کتنا ہی ٹال مٹول سے کام لے۔انہوں نے اپنی فتح اور کامیابی کو یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو غزہ جنگ سے متعلق اپنے علانیہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔’’ہمیں اللہ کے کامیابی کے وعدے پر پورا یقین ہے۔‘‘
حماس رہنما نے کہا کہ نیتن یاہو حکومت کی صفوں میں انتشار کے مظاہر سب کے سامنے اور ہر جگہ نمایاں ہیں۔حماس رہنما نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس امر کی نشاندہی کی کہ غزہ میں کارروائیاں جاری ہیں۔ ان میں تازہ ترین لڑائی جنوبی غزہ کے علاقے رفح شہر میں لڑی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تباہ کردہ علاقوں تک میں حماس کی جنگی صلاحیت تاحال برقرار ہے۔لبنان کے حوالے سے اسماعیل ہنیہ نے واضح کیا کہ لبنان سمیت دیگر محاذوں پر سکون غزہ میں فائر بندی پر منحصر ہے۔