غزہ پر جنگ ختم نہ کرنے والا معاہدہ قبول نہیں کریں گے: حماس

تاثیر۲۲      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

غزہ،22جون:فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ غزہ میں صرف ایسے جنگ بندی اقدام کو قبول کرے گی جس کے نتیجے میں مستقل اور مکمل سیز فائر کی راہ ہموار ہو سکے۔ حماس ادھوری جنگ بندی قبول نہیں کرے گی۔حماس کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے جمعرات کو اسرائیلی حکام کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کو آگے بڑھانے اور ما بعد جنگ کے منصوبے پر غور کے بعد سامنے آیا ہے۔
ہفتہ کے روز حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے اپنے اس موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ’’کہ تحریک جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام کے لیے تیار ہے۔‘‘
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ تحریک کسی بھی دستاویز یا اقدام کے لیے فراخ دلی کا مظاہرہ کرے گی جو جنگ بندی کے مذاکرات میں تحریک کے موقف کی بنیادوں کی ضمانت دے۔انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی ’’کہ حماس اب بھی غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء اور اسرائیل کی طرف سے درخواست کردہ تمام قیدیوں کی رہائی سے قبل مستقل جنگ بندی پر اصرار کرتی ہے۔‘‘ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسماعیل ہنیہ کہا کہ اسرائیلی حکومت نے ان کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس کی اولین ترجیح فلسطینی عوام کے خلاف مجرمانہ جنگ کو روکنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جنگ کو روکنے اور غزہ میں تصادم کے خاتمے کے بعد اقتدار برقرار رکھنے کے لیے کسی اتھارٹی کی تلاش کا معاملہ اب بھی بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں اسرائیلی حکومت، امریکی انتظامیہ اور حماس کے درمیان سب سے نمایاں تنازعات میں سے ایک ہے۔نیتن یاہو جنگ کے بعد کے دور کی تلاش شروع ہونے سے پہلے حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ان کے اس موقف نے فوج کے ساتھ اختلافات کو بھی جنم دیا ہے۔دو روز قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے حماس کو ختم کرنے کی بات کو محض دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حماس ایک نظریے کا نام ہے جسے ختم کرنا اتنا آسان نہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس کو ختم کرنے کا واحد حل غزہ میں اس کا متبادل تلاش کرنا ہے۔اس سے نیتن یاہو ناراض ہو گئیاور انہوں نے فوج پر تنقید کی۔دوسری جانب ہنیہ نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے حوالے سے واضح ضمانتیں دینے سے گریز کر رہا ہے۔ اسرائیل نے مذاکرات میں ثالثوں کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل غزہ میں فوج سے فوج نکالنے کی نہیں بلکہ دوبارہ تعیناتی کی بات کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل مذاکرات میں اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والے محور پر موجود رہے گا۔