فوجداری عدالت سے وارنٹ گرفتاری کے اجرا پر نیتن یاہو مایوس

تاثیر۳       جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،03جون:اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو صدر جو بائیڈن سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بارے میں سامنے آنے والے اب تک کے رسپانس سے خود کو مایوس ظاہر کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے یہ بات ایک انٹرویو کے دوران کہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ‘میں جو بائیڈن کے اس مؤقف سے مایوس ہوا ہوں کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے معاملے کا پیچھا نہیں کریں گے۔’ یاد رہے کہ فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے پچھلے ماہ اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع کے وارنٹ گرفتاری جاری کرانے کا کہا تھا۔نیتن یاہو کی طرف سے یہ مایوسی اس لیے ظاہر کی گئی ہے کہ امریکی کانگریس میں ریپبلیکنز کے علاوہ ڈیموکریٹس ارکان بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں لگانے کی کوشش میں ہیں۔ جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کی قانون سازی کو روک سکتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ قانون سازی درحقیقت وہ دونوں پارٹیوں کی طرف سے کرنا چاہتے ہیں۔نیتن یاہو کا یہ انٹرویو ایک امریکی ریڈیو کے لیے بدھ کے روز ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جب ابھی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی غزہ جنگ رکوانے کے لیے ‘روڈ میپ’ تجویز نہیں کیا تھا۔
نیتن یاہو نے کہا ‘چند دن پہلے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بارے میں دونوں پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے ہوا تھا۔ میں اب بھی سوچتا ہوں کہ امریکہ کی یہی پالیسی ہے۔ جبکہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ میں سچ کہوں تو مجھے حیرانی ہوئی ہے اور میں مایوس ہوا ہوں۔
واضح رہے امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے اور اس نے روایتی طور پر فوجداری عدالت کی طرف سے اپنے شہریوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے دائرہ کار کو مسترد کر دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ہم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کا مناسب جواب تلاش کرنے کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جبکہ وائٹ ہاؤس نے فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کی کوشش کو اشتعال انگیز قرار دیا تھا۔قومی سلامتی کے لیے مشیر جان کربی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ‘پابندیاں لگانا درست نقطہ نظر نہیں ہو سکتا۔