قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ’منصفانہ‘ معاہدے پرمذاکرات کو تیار ہیں: حماس

تاثیر۱۴      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

غزہ،14جون:فلسطینی مزاحتمی تحریک ’حماس‘ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو انٹرویو میں اس رائے کا اظہار کیا ہے ’’کہ تنظیم کے پاس موجود 120 اسرائیلی یرغمالیوں کی قسمت کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ان کے مستقبل کا معاملہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ حماس نے رہائی کے معاہدے کے بدلے غزہ کی پٹی میں مستقل فائر بندی کے بعد اسرائیلی فوج کے علاقے سے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔لبنان میں حماس کے سینئیر رہنما اسامہ حمدان نے ’سی این این‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی حالیہ پیش کش جنگ بندی خاتمے کے لیے حماس کے مطالبات سے ہم آہنگ نہیں تھی۔
اسامہ حمدان نے گذشتہ مہینے اعلان کردہ پیشکش کو اسرائیلی منصوبہ قرار دیا ہے۔حماس، بقول اسامہ حمدان، سیز فائر کے بارے میں واضح اسرائیلی موقف چاہتی ہے۔ نیز غزہ سے مکمل انخلا کے بعد فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی حماس کے مطالبے میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے ہم کسی بھی فیئر ڈیل پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کرنے والے ثالث ملکوں مصر، امریکہ اور قطر کے مذاکرات جاری ہیں، اسی اثنا میں حماس کے ایک ذریعے نے ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ کو بتایا کہ بال اب اسرائیلی کورٹ میں ہے کیونکہ اسرائیل کو ہمارا جواب ثالثوں کے ذریعے بھجوایا جا چکا ہے۔حماس اور اسلامی جہاد کے مشترکہ وفد نے معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کو اپنا جواب قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات میں پیش کیا ہے، اس پیغام سے متعلق مصر کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔