لبنان سے جنگ کی صورت میں جو بائیڈن کی اسرائیل کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

تاثیر۲۲      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،22جون:امریکہ اور اسرائیلی حکومت بالخصوص وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان اختلافات کے باوجود لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ کی صورت میں واشنگٹن نے اسرائیلی حکومت کو اپنے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔خیال رہے کہ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک ویڈیو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کو امریکی صدر پر کڑی تنقید کرتے دیکھا گیا تھا جس کے بعد دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات بھی سامنے آئے تھے۔
واشنگٹن میں اسرائیلی وفد کی حالیہ ملاقاتوں کے دوران کئی امریکی حکام سے یہ سنا گیا کہ اگر اسرائیل کی شمالی سرحد پر اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان کوئی جامع جنگ چھڑ جاتی ہے تو باخبر ذرائع کے مطابق بائیڈن انتظامیہ اپنے اتحادی کا ساتھ دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔اس تناظر میں ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کو درکار سکیورٹی امداد فراہم کرے گی، حالانکہ جنگ چھڑنے کی صورت میں امریکہ زمین پر فوج تعینات نہیں کرے گا۔جب کہ امریکی حکام توقع کرتے ہیں کہ اگر حزب اللہ اپنے حملوں کا دائرہ کار نمایاں طور پر وسیع کرتی ہے اور اسرائیلیوں کو ہلاک کرتی ہے تو اسرائیل پوری طاقت سے جواب دے گا۔
ان باخبر ذرائع نے بتایا کہ سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر اور قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہانگبی سمیت سینئر اسرائیلی حکام نے اس ہفتے کے دوران بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔یہ یقین دہانیاں پچھلے چند ہفتوں کے دوران واشنگٹن کی طرف سے لبنان-اسرائیل سرحد پر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے بار بارکے مطالبات کے دوران سامنے آئی ہیں۔ امریکیوں کا کہنا ہے اس نے زور دے کر کہا کہ وہ اسرائیل کے شمالی محاذ پر ایک اور جنگ چھڑتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ لیکن جنگ شروع ہوتی ہے تو امریکہ اسرائیل کا ساتھ دے گا۔