لبنان پر اسرائیلی حملے، حزب اللہ کے دو ارکان قتل، میزائل حملوں سے جواب

تاثیر۲۸      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

بیروت،28جون:جمعرات کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں حزب اللہ کے دو ارکان مارے گئے اور بعد میں حزب اللہ نے جواب میں میزائل حملے سے شمالی اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ مغربی لبنان کے شہر البقاع کے علاقے سحمر میں ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا گیا۔اس حملے میں ایک شخص مارا گیا۔ نامہ نگار نے بتایا کہ لبنان میں سحمر حملے میں مرنے والا حزب اللہ کا کارکن علی احمد علاء الدین تھا۔حزب اللہ نے بھی تصدیق کی کہ اس کا ایک رکن مارا گیا ہے۔
دوسرے الگ حملے میں جمعرات کو اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے قصبے “حداثا” کو نشانہ بناتے ہوئے ایک فضائی حملہ کیا۔ اس میں حزب اللہ کا دوسرا رکن مارا گیا۔ اس دوران حزب اللہ نے اسرائیلی علاقے بالائی الجلیل کی طرف درجنوں راکٹ داغ دئیے۔ اسرائیل میں سائرن بج گئے۔
اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کے مطابق اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ تقریباً روزانہ اسرائیلی بمباری سے لبنانی “حزب اللہ” کے اہداف پر سفید فاسفورس گولے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ فاسفورس کے استعمال پر بین الاقوامی سطح پر پابندی ہے۔ لبنان کے ساتھ اسرائیلی سرحد کے ساتھ 5 کلومیٹر چوڑا علاقہ ناقابل رہائش ہو چکا ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق اصل تباہی اسرائیل اور لبنان کے درمیان اقوام متحدہ کی جانب سے متعین سرحد نام نہاد “بلیو لائن” کے شمال میں 5 کلومیٹر چوڑے علاقے میں ہوئی۔
فنانشل ٹائمز نے بتایا اس علاقے پر اسرائیلی حملوں نے نہ صرف حزب اللہ کی فوجی تنصیبات کو بلکہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رہائشی عمارتیں اور زرعی زمینیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایک ایسا علاقہ لبنان میں ایک بفر زون بنانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب جنوبی لبنان کونسل کے سربراہ ہاشم حیدر نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی بمباری سے ملک کے جنوب میں 3000 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔