لبنان کو دوسرا غزہ نہیں بنایا جا سکتا: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

تاثیر۲۲      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نیویارک،22جون:اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کو اسرائیل اور لبنان کی جنگ میں نہ بدلا جائے اور ایک اور غزہ نہ بنایا جائے۔’ گوتریس اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگی لہجے میں بیانات کے تبادلے کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ان کے بقول ‘ دونوں طرف سے تقریباً یومیہ بنیادوں پر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر گولہ باری کا تبادلہ جاری ہے۔ یہ غزہ میں جاری جنگ کے متوازن انداز میں سلسلہ جاری ہے۔ اس خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ ایسی جنگ کو شروع کرنے کا باعث بن سکتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔
انہوں نے رپورٹرز سے جمعہ کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ‘ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ علاقے اور دنیا کے لوگ لبنان کو ایک اور غزہ میں تبدیل کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔
جس طرح کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تقریباً ہر روز سرحد پر گولہ باری جاری ہے گوتریس کو خدشہ ہے کہ علاقائی سطح پر ایک بڑا تصادم شروع ہو جائے گا۔ کیونکہ اسرائیل یہ کہہ چکا ہے کہ اس نے لبنان کے خلاف جارحیت کے لیے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ جبکہ وہ اس سے پہلے ہی یہ بھی کہہ چکا ہے کہ لبنان کو دوسرا غزہ بنا دے گا۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا ‘ مشرق وسطیٰ میں جنگی خطرہ حقیقی طور پر وسیع ہو چکا ہے۔ اس سے لازماً بچا جانا چاہیے۔’ عجلت میں کی گئی ایک حرکت بھی ایک بہت بڑی تباہی کا آغاز بن سکتی ہے۔ جو سرحدوں سے ماورا ہو جائے گی اور پھر ہمارے تصورات سے بھی بالاتر ہو گی۔’