مانجھی کے وزیر بننے سے مسلم آبادی کو امیدیں وابستہ

تاثیر۱۲      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

گیا (بہار)، 12 جون: گیا پارلیمانی حلقہ کے رکن پارلیمان جیتن رام مانجھی کو مرکزی وزیر بنائے جانے پر مسلم رہنماؤں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ مسلم رہنماؤں نے کہا ہے کہ مانجھی سے اہل گیا کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں کہ مانجھی مسلمانوں کا خیال رکھیں گے۔ واضح رہے کہ مانجھی کو وزیر برائے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ‘ایم ایس ایم ای’ کو عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ہم پارٹی کے سنیئر رہنماء ڈاکٹر صبغت اللہ خان نے کہا کہ جیتن رام مانجھی کو کام کرنے کا طویل تجربہ ہے۔ بہار میں کئی وزرات کی ذمہ داریوں کے علاوہ یہاں وزیر اعلٰی بھی رہ چکے ہیں۔ تجربہ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اب تک اُنکے ذریعے کام کاج میں تفریق’ ایک خاص فرقے’ کے ساتھ نہیں کی گئی ہے اور نا ہی کوئی معاملہ اس طرح کا سامنے آیا ہے۔ بلکہ جب وہ وزیر اعلیٰ بنے تھے تب بھی انہوں نے مسلمانوں کی ترقی اور خوشحالی، زبان و کلچر کے تحفظ کو یقینی بنایا تھا۔خاص کر اردو ٹیچروں کی بحالی، مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی کو اسکی اپنی زمین پر قائم کرنے، تھانوں میں ایک مسلم افسر کی تعیناتی کی منظوری کے ساتھ انہوں نے اپنے شہر گیا میں عازمین حج کے لیے’ حج بھون ‘ کی تعمیر کرانے جیسے کئی اہم منصوبوں کو منظو ری دی تھی۔ حالانکہ انکے ہٹتے ہی زیادہ تر منصوبے سرد مہری کے شکار ہو گئے۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے گیا میں حج بھون کی تعمیر کو بھی منسوخ کردیا تھا۔ ڈاکٹر سے صبغت اللہ خان نے کہا کہ سابق وزیرا اعلی جیتن مانجھی کو ایک بڑا محکمہ ملا ہے۔ اس کے ذریعے وہ سبھی طبقے کی ترقی کو یقینی بنانے کے ساتھ گیا اور پورے ملک کے مسلمانوں کے مسائل پر بے باکی سے پارلیمنٹ میں اپنی آواز بلند کریں گے اسکی ہم سب کو امید ہے۔صبغت اللہ خان نے کہا کہ مانجھی کی ایک شبیہ سیکولر رہنماء کی رہی ہے۔ اکثر وہ اس بات کا بھی اظہار کرتے رہے ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ زیادتی، تشدد امتیازی رویہ اور دیگر مسائل سے جب تک ابھرا نہیں جائے گا تب تک ملک کو سپر پاور بننے میں رکاوٹیں پیدا ہوتی رہیں گی۔سبھی طبقے فرقے اور سماج کی ترقی یکساں ہونی ضروری ہے۔ بہار میں این ڈی اے میں رہتے ہوئے انہوں نے مسلم مسائل پر بے باکی سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا تھا۔ کیونکہ اب مانجھی خود مرکز میں وزیر بن چکے ہیں۔ تو اس صورت میں ان سے اہل گیا بالخصوص مسلمانوں کو امیدیں زیادہ وابستہ ہیں۔گیا میں مسلمانوں کے درمیان کئی مسائل ہیں جن مسائل کا اظہار پارلیمانی انتخابات کے تشہیری مہم کے دوران بھی خوب ہوا تھا۔ خاص کر یہاں مسلمانوں کے روزگار کا بھی مسئلہ اٹھایا گیا تھا اور اب جبکہ ایک اہم محکمہ کی ذمے داری انہوں نے سنبھالی ہے تو امیدیں زیادہ ہونا بھی لازمی ہے۔
جیتن رام مانجھی بھی ان چنندہ رہنماوں میں سے ایک ہیں جن پر مسلم آبادی کے ایک حصے کا برسوں سے اعتماد ہے۔ مانجھی نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کانگریس سے کیا تھا اور پہلی بار کانگریس کے ٹکٹ پر ہی رکن اسمبلی بنے تھے۔اسعد پرویز عرف کمانڈر نے کہاکہ گیا پارلیمانی’ محفوظ حلقہ’ ہے۔ مانجھی پر مسلمانوں نے کئی بار اعتماد کیا ہے۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں جب انہوں نے عظیم اتحاد کے ساتھ اپنی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ سیکولر کی ٹکٹ پر گیا پارلیمانی حلقہ سے انتخاب لڑا تھا تب اسوقت مسلمانوں کا سب سے زیادہ ووٹ انہیں کو ملا تھا۔اس سے قبل 2014 میں جے ڈی یو سے انتخاب لڑنے کے دوران بھی مسلمانوں نے مانجھی ہر اعتماد کیا تھا، اس بار 2024 میں بھی مسلم ووٹروں نے ان پر اعتماد کیا ہے۔ اس سے پہلے جب وہ ایم ایل اے کا انتخاب لڑتے تھے تب بھی مسلمانوں کا انہیں ووٹ ملا تھا۔اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ مانجھی مسلم مسائل کو حل کریں گے اور کرائیں گے، تفریق کی سیاست نہیں کریں گے، مسلمانوں کے ساتھ ہونے کا اعتراف خود انکے بیٹے و ریاستی وزیر سنتوش مانجھی کر چکے ہیں۔یہاں مطالبہ یہی ہے کہ گیا کی مسلم آبادی میں ایک بڑا حصہ اقتصادی طور پر پچھڑا ہوا ہے انکے روزگار کا ذریعہ پیدا ہواور مانجھی اس میں دلچسپی دیکھائیں۔سماجی رکن اسد محسن کہتے ہیں کہ مانجھی ایک سیکولر شبیہ کے رہنماء ہیں اور ماضی میں این ڈی اے میں رہتے ہوئے بھی مسلمانوں کے مسائل پر بات کی ہے، سی اے اے احتجاج کے دوران بھی کئی دھرنا احتجاج میں وہ شامل ہوئے تھے۔ لیکن وہ پہلے بی جے پی کے ریاستی سطح کے رہنماوں کے رابطے وتعلقات میں تھے، قومی سطح کی اعلی قیادت سے قربت نہیں تھی۔ اس بار اصل میں ان کی پرکھ ہے کہ انکا مسلمانوں کے قومی مسائل پر کس طرح کا رد عمل ہوتا ہے۔ کیونکہ اس بار براہ راست بی جے پی کے اعلی قیادت کی قربت میں ہونگے۔اس لئے اصل پرکھ انکی اب ہوگی۔ جہاں تک بات ترقیاتی کاموں کی ہے تو یہ حقیقت کہ گزشتہ کئی برسوں سے مسلم آبادی میں رکن پارلیمان کے فنڈ سے کام نہیں ہوئے ہیں، چند ایک جگہوں پر ہوئے ہونگے تو یہ کہا نہیں جاسکتا ہے لیکن اس بار امید ہے کہ مانجھی اپنے فنڈ کی تقسیم میں تفریق نہیں کریں گے۔اس بار پہلا موقع ہے جب گیا پارلیمانی حلقہ سے رکن پارلیمان مرکز میں وزیربنا ہے، مانجھی کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ گیا کے پہلے مرکزی وزیر بنے ہیں۔