مدھیہ پردیش میں خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی ایسی ہو جو دوسری ریاستوں کے لئے مثال بنے:نرملا بھوریا

تاثیر۲۷      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 27 جون،:وزیرخواتین واطفال ترقیات نرملا بھوریا نے بھوپال میں خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے منعقدہ دو روزہ ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میںخواتین واطفال ترقیات کا محکمہ اس طبقے کے لیے پالیسیاں بنانے پر کام کر رہا ہے جو آبادی کا نصف ہے۔ اس میں تمام محکموں کے تعاون سے ایسی خواتین کی پالیسی کو زمین پر لانا ہوگا جو دیگر ریاستوں کے لیے تحریک کا باعث بنے گی۔ وزیر محترمہ بھوریا نے کہا کہ آج خواتین کو تمام شعبوں میں قانونی طور پر مساوی حقوق حاصل ہیں لیکن انہیں معاشرے میں اس کے لیے ابھی بھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا ان کے پورے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت نے بھی خواتین کی صحت، تعلیم اور تحفظ کے لیے مختلف اسکیمیں بنائی ہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانا ایک کثیر جہتی نقطہ نظر ہے جس میں معاشی، سماجی، سیاسی، قانونی اور صحت کے پہلو شامل ہیں۔وزیر محترمہ بھوریا نے کہا کہ خواتین کی پالیسی کو محض کاغذی دستاویز نہیں بنانا چاہیے، اسے منشور کی شکل میں تیار کیا جانا چاہیے۔ ایسے تمام محکمے جن میں خواتین کو بااختیار بنانے کے اچھوتے پہلو بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا کوئی نعرہ نہیں ہے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ترقی کے ا?خری کنارے سے منسلک ہے جو اپنے اور دوسروں کے لیے سماجی تبدیلی پر اثر انداز ہونے کے حق کو یقینی بناتا ہے۔
پرنسپل سکریٹری وومین اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سنجے شکلا نے کہا کہ بااختیار بنانے کے کئی اجزاءہوتے ہیں جیسے تعلیم، سلامتی، صحت، قانون وغیرہ۔ پالیسی میں خواتین کے انسانی حقوق، ان کی شرکت، تشدد جیسی برائیوں کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے، شامل ہونا چاہیے۔ پرنسپل سکریٹری شر شکلا نے کہا کہ خواتین کی پالیسی، ا?نگن واڑی کارکنان اور سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین، فی الحال موبائل کے ذریعے کام کرنا ڈیجیٹل بااختیار بنانا ہے۔ صرف ایک سمت میں کوششیں کرکے مطلوبہ کامیابی حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ خواتین کو بااختیار بنانا ایک کثیر جہتی تصور ہے۔ اس کام میں این جی اوز اور سماجی تنظیموں کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ ا?ئیے خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کا ا غاز اپنے گھروں اور محکموں سے کریں۔
کمشنر وومن اینڈ چائلڈ ڈویلپمنٹ صوفیہ فاروقی ولی نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کی پالیسی ا?ئندہ دس سال کے لیے ہوگی۔ پالیسی کا فیصلہ ا?ئندہ تین ماہ میں مختلف محکموں کے تعاون سے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا ایک مسلسل عمل ہے۔ پالیسی سازی کے لیے تجاویز لی جائیں گی اور مسودہ تیار کیا جائے گا۔ منظوری کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پالیسی پوائنٹس کی بھی مسلسل نگرانی اور جائزہ لیا جائے گا۔اس ورکشاپ میں مہیلا فائنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی ایم ڈی ندھی نوودیتا سمیت مختلف محکموں کے نمائندے موجود تھے۔