میونسپل کارپوریشن ڈپٹی میئر ستونتی دیوی نے میئر کاجل کماری پر عہدہ کے غلط استعمال کا لگایا الزام

        سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) شہر کے گورکچھنی محلہ میں ڈپٹی میئر ستونتی دیوی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن میں میئر کاجل کماری کا خاندان سیاست کر رہا ہے، میونسپل کمشنر اور کونسلرس کو بلیک میل کر خلاف ضابطہ کام نہ کرنے کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ کام میں خلل ڈالا جا رہا ہے جو شہر کے مفاد میں نہیں ہے، کونسلروں کی انتظامیہ نے اپنی پہلی میٹنگ میں جو فیصلہ لیا میئر کاجل کماری نے گھر بیٹھ کر پورے بہار سے الگ سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن میں میوٹیشن کا ایک فیصد اضافی فیس وصول کرنے کا درج کرا دیا جو بارہ رکنی کمیٹی کی طرف سے دئے گئے فیصلے کی خلاف ورزی رہی ہے، انھیں شہر کے باشندوں کی فکر نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ بہار میں کہیں بھی ایک فیصدی اضافی فیس نہیں لی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی میٹنگ کے کئی دن گزر جانے کے بعد بھی پروسیڈنگ بک گھر بیٹھے من مانے دھنگ سے لکھے جاتے رہے ہیں جبکہ پروسیڈنگ بک میٹنگ میں ہی لکھی جانی چاہئیں، میٹنگ میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ لکھا نہیں جاتا، جو فیصلہ نہیں لیا جاتا ہے وہ لکھا جاتا ہے ۔ وارڈ کونسلر سکانتی سنگھ نے کہا کہ بورڈ میٹنگ میں بہار میونسپل ایکٹ 2007 کے سیکشن 49 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اصل ایجنڈے کے علاوہ دیگر فیصلے بورڈ میں بحث کئے بغیر گھر بیٹھے لیے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہر میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ سنگین ہے جسکے لئے میئر کی جانب سے کچھ بھی نہیں کیا گیا، سات عزائم، ڈرین اسٹریٹ اسکیم کے تحت منتخب کی گئی اسکیم کو میونسپل کارپوریشن نے خط نمبر 461 کے ذریعہ منظور کیا تھا، جسے میئر نے منسوخ کر دیا تھا جسے بعد میں میونسپل کمشنر کی پہل پر ٹینڈر کیا گیا، انہوں نے کہا کہ میئر شہر کے کام میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں، سنیتا سنگھ نے بس اسٹاپ کے بارے میں بھی پوچھا کہ جی ایس ٹی کے دو ماہ کیلئے بس مالکان سے غیر قانونی طور پر جمع کی گئی رقم کہاں گئی؟  انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ بورڈ میٹنگ میں تمام کونسلرس کی تجاویز کو نظر انداز کیا گیا اور ان کی مدت ملازمت میں توسیع کر این جی اوز کو فائدہ پہنچایا گیا ۔ میٹنگ میں سنجئے ویش، کلبل سنگھ، کرن جیسوال پروین سنگھ، سروج کمار، شیکھر سنگھ، کیلا دیوی، سنجئے کمار ورما، گلشن افروز، راجیش کمار وغیرہ موجود تھے ۔