نْصیرات قتل عام کے لیے امدادی ٹرک کا استعمال اسرائیل کا جنگی جرم: یو این ماہرین

تاثیر۱۵      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

برسلز،15جون:اقوام متحدہ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے اسرائیل کی طرف سے وسطی غزہ کے نْصیرات کیمپ میں یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے فوجی آپریشن کے لیے امدادی ٹرک کے استعمال کو جنگی جرم قرار دے دیا ہے۔ اپنی رپورٹ میں ماہرین نے اسرائیلی افواج کی مذمت کی جو امریکہ کی طرف سے بنائے گئے عارضی سمندری بندرگاہ سے آنے والے انسانی امداد کے ٹرک میں چھپے ہوئے تھے۔ اس ٹرک کا مقصد انسانی امداد فراہم کرنا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے آپریشن نصیرات میں استعمال کیے جانے والے حربے امدادی کارکنوں اور انتہائی ضروری انسانی امداد کی ترسیل کو زیادہ خطرے میں ڈالتے ہیں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں انتہائی سطح کی بربریت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین نے کہا اسرائیلی فوجیوں کا شہری لباس پہن کر وسطی غزہ میں نْصیرات آپریشن کرنا قانون کے مطابق سختی سے ممنوع ہے۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ آٹھ جون کو اسرائیلی قابض افواج ، مبینہ طور پر غیر ملکی فوجیوں کی مدد سے، نْصیرات میں داخل ہوئیں۔ بے گھر افراد اور امدادی کارکنوں کے بھیس میں ایک انسانی ٹرک میں سوار ہوئیں۔ ان فورسز نے علاقے میں پرتشدد چھاپہ مار کارروائی کی اور لوگوں پر حملہ کیا۔ زمینی اور فضائی حملوں کے ساتھ کے ساتھ دہشت، موت اور مایوسی پھیلائی۔رپورٹ میں نْصیرات میں اسرائیلی فوجی آپریشن کو سات اکتوبر سے فلسطینی عوام کے خلاف تباہ کن اسرائیلی جارحیت میں سب سے گھناؤنا قدم قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین نے اسرائیلی افواج اور آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ جنیوا میں انسانی حقوق کی کونسل کی طرف سے مقرر کردہ خصوصی نمائندوں اور آزاد ماہرین کی حیثیت کو اقوام متحدہ کا ملازم نہیں سمجھا جاتا ہے اور ان کو انسانی حقوق کے حالات کا مطالعہ کرنے اور ان پر رپورٹیں جمع کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔