نیتن یاہو کی بیگم بھی بیٹے کے نقش قدم پر، اسرائیلی فوج پر’انقلاب‘ کی کوشش کا الزام

تاثیر۲۶      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب، 26 جون : اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے دھماکا خیز انکشاف کرتے ہوئے اسرائیلی فوج پر عسکری انقلاب کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل نیتن یاہو کے بیٹے یائر نے بھی اس سے ملتا جلتا بیان دیا تھا۔اسرائیلی اخبار ہاریتز کے مطابق سارہ نے سات اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں یرغمال اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کے نمائندگان کے ساتھ ایک سابقہ ملاقات میں کہا کہ وہ فوجی قیادت پر بھروسا نہیں کرتی ہیں کیوں کہ فوج کے سینئر جنرل ان کے شوہر کے خلاف بے حد جھوٹی خبریں صحافتی اداروں کو دیتے ہیں۔اس پر جب حاضرین میں سے کسی نے سارہ کی بات پر احتجاج کیا تو وزیر اعظم کی اہلیہ نے جواب میں کہا کہ اس بات کو نہیں سمجھا جا رہا کہ فوجی انقلاب کے واسطے ایک سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے۔ سارہ نے اپنی گفتگو میں بارہا اس الزام کو دہرایا۔
اسرائیلی ریزرو فوج کی ایک خاتون کرنل نے واضح کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی اہلیہ کے بیان کی گواہ ہیں۔ مذکورہ خاتون کرنل کا اپنا بیٹا بھی حالیہ جنگ میں مارا جا چکا ہے۔چند روز قبل وزیر اعظم نیتن یاہو کے بیٹے یائر نے بھی فوج اور شاباک (داخلہ انٹیلی جنس) پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ یائر نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹوں میں فوجی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ ان کے والد کے خلاف فوجی انقلاب کے لیے سرگرم ہے۔ اس کا مقصد سات اکتوبر کو حماس کے حملے کا مقابلہ کرنے میں فوجی قیادت کی ناکامی پر پردہ ڈالنا ہے۔یائر نے اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ہرتسی ہیلفی، فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ اہران ھلیفا اور جنرل انٹیلی جنس کے چیف رونین بار پر اسرائیلیوں کے بارے میں معلومات چھپانے کا الزام بھی عائد کیا۔ یائر نے سوال کیا کہ ”کیا یہ غداری نہیں ہے؟”.یاد رہے کہ وزیر اعظم کے ترجمان نے سارہ نیتن یاہو کے بیان کی تردید کی تھی تاہم اسرائیلی میڈیا اسے نشر کرنے پر مصر رہا۔ میڈیا نے بعض حاضرین کی گواہی کا سہارا لیا جنہوں نے وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ سے یہ بات سنی تھی۔بعض حلقوں کے نزدیک نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ جان بوجھ کر اس طرح کے الزامات پھیلا رہے ہیں تا کہ عوام کے سامنے اپنی اچھی تصویر پیش کر سکیں۔ ساتھ ہی یہ ظاہر کر سکیں کہ ان کے ساتھ غداری ہو رہی ہے۔ اس طرح نیتن یاہو مظلوم بن جائیں گے اور عوام کی جانب سے بھرپور تنقید کی لہر میں کمی آ سکے گی۔