ٹی۔20 ورلڈ کپ: پی این جی کو شکست دے کر افغانستان سپر 8 میں، نیوزی لینڈ باہر

تاثیر۱۴      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

تروبہ، 14 جون:تیز گیندباز فضل الحق فاروقی کی شاندار تین وکٹوں اور گلبدین نائب کی شاندار اننگز کی بدولت افغانستان نے جمعہ کو ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو میں کھیلے گئے آئی سی سی ٹی – 20ورلڈ کپ کے میچ میں پاپوا نیو گنی (پی این جی) کو سات وکٹوں سے شکست دے دی۔اس جیت کے ساتھ ہی افغانستان نے تین میچوں میں تیسری جیت درج کی اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ مل کر سپر 8 مرحلے میں پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ، جو اب تک افغانستان اور ویسٹ انڈیز سے ہار چکی ہے، ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے۔
96 رن کے ہدف کے تعاقب میں افغانستان کی شروعات خراب رہی اور 2.5 اوورز میں صرف 22 رن پر دونوں سلامی بلے باز رحمان اللہ گرباز (سات گیندوں میں 11 رن) اور ابراہیم زدران (0)بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
اس کے بعد آل راؤنڈر گلبدین نائب اور عظمت اللہ عمرزئی نے ٹیم کا اسکور 7.3 اوورز میں 50 رن سے آگے بڑھایا۔ دونوں کے درمیان 33 رنوں کی شراکت داری کا خاتمہ عمرزئی کے 18 گیندوں میں 13 رن بنانے کے بعد آؤٹ ہونے پر ہوا۔ افغانستان کا اسکور 8.4 اوورز میں 55 رن پر 3 وکٹوں پر تھا۔ اس کے بعد گلبدین نے محمد نبی کے ساتھ مل کر افغانستان کو ہدف تک پہنچا دیا۔
افغانستان نے 15.1 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 101 رن بنا کر کامیابی حاصل کی۔ گلبدین 36 گیندوں پر چار چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 49 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور نبی 23 گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 16 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
پی این جی کی جانب سے ایلی ناؤ، سیمو کامیا اور نارمن وانوا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا۔ پی این جی کی شروعات بہت خراب رہی اور اس نے اپنے کپتان اسد والا کو پہلے ہی اوور میں صرف 3 رنز پر کھو دیا۔
آؤٹ ہونے والے اگلے کھلاڑی لیگا سیاکا اور سیسے باو تھے، جنہیں فضل الحق فاروقی نے گولڈن ڈک پر آؤٹ کیا۔ ہیری ہیری کو نوین الحق نے صرف ایک رن بنا کر کلین بولڈ کر دیا۔ پی این جی نے 3.1 اوورز میں صرف 17 رن پر 4 وکٹیں گنوا دیں۔
اس کے بعد ٹونی یورا کے ساتھ چاڈ سوپر آئے، جنہوں نے شراکت قائم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم نوین نے یورا (11) کو بولڈ کرکے 13 رن کی اس چھوٹی سی شراکت داری کو توڑا۔ پاور پلے کے اختتام پر پی این جی کا اسکور 5 وکٹوں پر 30 رن تھا۔
وکٹ کیپر بلے باز کپلن ڈوریگا اچھا کھیل رہے تھے، انہوں نے دو چوکے لگائے اور چاڈ کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوشش کی لیکن نور احمد اور راشد خان کی مشترکہ کوشش کے باعث چاڈ 9 رن بنا کر آؤٹ ہوگئے اور 16 رن کی یہ شراکت ٹوٹ گئی۔
پی این جی نے 11.5 اوورز میں اپنے 50 رن مکمل کر لیے۔ اسی وقت نارمن وانووا صفر پر رن آؤٹ ہوئے، جس سے پی این جی کا اسکور 12.1 اوورز میں 7 وکٹوں پر 50 پر رہ گیا۔
اس کے بعد ڈوریگا اور ایلی ناؤ نے 38 رنوں کی شاندار شراکت داری کرتے ہوئے پی این جی کو 100 رن کے قریب پہنچا دیا۔ نور نے ڈوریگا (32 گیندوں میں دو چوکوں کی مدد سے 27 رن) کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے اس شراکت داری کو توڑا۔ تاہم اس وکٹ کے بعد افغانستان کو پی این جی کی اننگز سمیٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ پی این جی کی ٹیم 19.5 اوورز میں صرف 95 رن پر ڈھیر ہو گئی۔
افغانستان کے لیے فاروقی نے چار اوورز میں 16 رن دے کر 3 اور نوین نے 2.5 اوور میں 4 رن دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ نور نے چار اوورز میں 14 رن دے کر 1 وکٹ حاصل کی۔