ٹی-20 ورلڈ کپ: افغانستان کی جیت سے دلچسپ ہوئی’گروپ ون‘ کی لڑائی

تاثیر۲۳      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی ،23جون :افغانستان نے آئی سی سی مینز ٹی-20 ورلڈ کپ 2024 میں تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 21 رن سے شکست دے دی۔ آرنوس ویل گراؤنڈ، کنگس ٹاؤن میں 23 جون (اتوار) کو کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا کو جیت کے لیے 149 رن بنانے تھے لیکن اس کی پوری ٹیم 19.5 اوور میں 127 رن ہی بنا سکی۔
آسٹریلیا کے خلاف افغانستان کی فتح کے باعث سپر-8 میں گروپ ون کی مساوات مکمل طور پر بدل گئی ہے اور اب اس گروپ کی چاروں ٹیمیں سیمی فائنل کی دوڑ میں ہیں۔ تاہم اس گروپ سے صرف دو ٹیموں کو سیمی فائنل میں جانے کا موقع ملے گا۔ اگر آسٹریلیا افغانستان کو شکست دیتا تو ہندوستان اور آسٹریلیا دونوں سیمی فائنل میں پہنچ چکے ہوتے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ افغانستان کی جیت سے بنگلہ دیش کو بھی کچھ راحت ملی ہے۔
ہندوستان کی بات کریں تو ٹیم انڈیا کے لیے مساوات کافی آسان ہے۔ اگر ہندوستانی ٹیم آسٹریلیا کو شکست دیتی ہے تو وہ سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔ آسٹریلیا کے خلاف شکست کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بشرطیکہ یہ بڑے مارجن سے نہ ہو۔ ہندوستان کا نیٹ رن ریٹ فی الحال +2.425 ہے۔ اگر اسے آسٹریلیا کے خلاف بڑی شکست ہوتی ہے اور افغانستان بنگلہ دیش کے خلاف جیت جاتا ہے، تب ہی اس کے باہر ہونے کا امکان ہوگا۔ ایسے میں آسٹریلیا اور افغانستان نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر ہندوستان کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔
آسٹریلیا کو افغانستان کے ہاتھوں شکست ہو چکی ہے اور وہ اس وقت مشکلات کا شکار ہے۔ اب اسے 24 جون کو سینٹ لوشیا میں ہونے والے میچ میں ہندوستان کو شکست دینا ہوگی۔ اسے بنگلہ دیش سے بھی مدد کی ضرورت ہوگی اور امید کرنی ہوگی کہ بنگلہ دیش اپنے آخری میچ میں افغانستان کو شکست دے۔ آسٹریلیا کا موجودہ نیٹ رن ریٹ +0.223 ہے۔ اگر وہ ہندوستان سے ہارتا ہے تو اسے بنگلہ دیش کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ پھر اگر بنگلہ دیش افغانستان کو ہرا دیتا ہے تو تین ٹیموں کے دو دو پوائنٹس ہوں گے اور فیصلہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ ٹی-20 ورلڈ کپ 2024 کے سپر 8 مرحلے میں 4 ٹیموں کے دو گروپس ہیں۔ ان دونوں گروپوں سے ٹاپ پر رہنے والی دو دو ٹیموں کو سیمی فائنل میں رسائی حاصل ہوگی۔ گروپ-1 میں ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش، آسٹریلیا اور افغانستان ہیں۔ جبکہ گروپ-2 میں ویسٹ انڈیز، امریکہ، جنوبی افریقہ اور دفاعی چیمپئن انگلینڈ کو رکھا گیا ہے۔