پاکستان سے بات چیت کی فاروق عبداللہ نے وکالت کی

تاثیر۱۲      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

سرینگر، 12 جون : جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے وادی میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کی ہے۔ فاروق نے کہا کہ پڑوسی (پاکستان) مسلسل سرگرمیاں کر رہا ہے، ایسی صورتحال میں آپ کو دوسرے طریقوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔ بات چیت کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ حال ہی میں کشمیر میں مسلسل واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اس میں بے گناہوں کا خون بہہ رہا ہے۔ آج مسلسل فوجی کارروائی ہو رہی ہے، اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ آپ روس اور یوکرین میں دیکھیں کہ وہاں لڑائی سے کیا حاصل ہوا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ حال ہی میں کشمیر میں مسلسل واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اس میں بے گناہوں کا خون بہہ رہا ہے۔آج مسلسل فوجی کارروائی ہو رہی ہے، اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ آپ روس اور یوکرین میں دیکھیں کہ وہاں لڑائی سے کیا حاصل ہوا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ پڑوسی (پاکستان) مسلسل سرگرمیاں کر رہا ہے۔ لہذا آپ کو دوسرے طریقوں پر بھی غور کرنا چاہئے۔ بات چیت کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ آپ بڑے بھائی ہیں آپ کو بڑے دل سے بات کرنی چاہیے ایک کشمیری کبھی ایسی غلط باتوں میں نہیں پڑتا۔ اسے اس (دہشت) سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔وادی میں تین دنوں میں تین حملے ہوئے۔ 9 جون کو دہشت گردوں نے ایک 53 نشستوں والی بس پر فائرنگ کی تھی جو یاتریوں کو لے کر شیو کھوری مندر سے کٹرا میں ماتا ویشنو دیوی مندر جا رہی تھی۔ اس کے بعد بس بے قابو ہو کر کھائی میں جاگری۔ اس حادثے میں 9 لوگوں کی موت ہو گئی۔ جبکہ 41 افراد زخمی ہوئے۔ سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کی تلاش میں سرچ آپریشن کر رہی ہیں۔ریاسی کے بعد دہشت گردوں نے 11 جون کو کٹھوعہ کو نشانہ بنایا۔ یہاں عام لوگوں اور سڑک پر گزرنے والے لوگوں کے گھروں پر فائرنگ کی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں اور دہشت گردوں کو گھیرنے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے اس علاقے میں میگا سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ دہشت گردوں نے 11 جون کو ہی ڈوڈہ میں تیسرا حملہ کیا۔ یہاں دہشت گردوں نے پولیس اور فوج کی چوکی پر فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہاں بھی تصادم جاری ہے۔ اس حملے میں ایک فوجی شہید جبکہ 5 زخمی ہوئے ہیں۔