پروفیسر ڈاکٹر سید رافق زماں فزکس کے پروفیسر تھے لیکن اردو ادب کے گراں قدر شخصیت بھی تھے :: ڈاکٹر شاہد رزمی

تاثیر۲۳      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

کتاب “ارمغان رافق” کے رسم اجراء  پر ادبی تقریب منعقد ,ادب نواز دانشوران  اساتذہ کرام پروفیسران اور  ادیب نے شرکت کی

بھاگلپور ( منہاج عالم) شہبازیہ ادبی کونسل مولانا چک بھاگلپورکے زیر  اہتمام  تقریب رسم اجرا ”  کتاب “ارمغان رافق ” انشائیوں کا مجموعہ کا رسم اجراء عمل میں آیا  . اس موقع پر  بطور مہمان خصوصی  مولانا سید  احمد عطا حسام  قادری خانقاہ قادریہ رزاقیہ داٶد نگر   اوررنگ آباد  تشریف فرما تھے . جب کہ صدر کی  حیثیت سے  شہبازیہ ادبی کونسل  کہ روح رواں  انجنئر ایس ایم شمس الزماں عرف بزمی  جلوہ افروز  تھے. مہمان ذی وقار ڈاکٹر  فاروق علی  سابق وائس چانسلر جے پی یونیورسٹی چھپرا موجود تھے   مہمان اعزازی   ڈپٹی میئر ڈاکٹر صلاح الدین احسن  معروف سرجن  ڈاکٹر امتیاز الرحمن  سکبدوش  پرنسپل  ڈاکٹر اقبال حسین آزاد جے آرایس  کالج جمال پور   ماہر تعلیم گرودیو  پدار رونق اسٹیج تھے .  رسم اجرا تقریب کا آغاز  مولانا احمد رضا عزیزی  کہ تلاوت  قرآن پاک سے ہوا .جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاہد رضا جمال عرف شاہد رزمی  صدر شعبہ پی جی اردو مونگیر یونیورسیٹی مونگیر  نے انجام دئے . اس موقع پر شہبازیہ ادبی کونسل کی جانب سے   میمنٹو شال اور پودا  پیش کر  مہمان  خصوصی مہمان ذی وقار  اور مہمان اعزازی کی عزت افزائی کی گئی.  سینئر صحافی   کوثر  کو میمنٹو  اور پودا پیش کر عزت افزائ کی گئ. اس موقع پر  مہمان خصوصی احمد عطا   حسام قادری نے کہا کہ  آج اردو زبان جدوجہد کر رہی ہے  بہت خوبصورت اور میٹھی زبان ہے  جو ہندوستان میں پیدا ہوئی  ہم سبوں کی وراثت  اسے کوئ  بھی ختم نہیں کر سکتا  اردو زبان  کے فروغ کے لیے  ہم لوگوں  تعاون کرنے کی  ضرورت ہے باقائدہ  انہوں نے ایک لاکھ روپئے امداد دینے کا اعلان بھی کیا .  اس موقع پر ڈاکٹر فاروق علی نے کہا کہ  اس  طرح کے کام کرنے سے  سمآج  میں بیداری ائے گی  ٹیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا ہونا لازمی ہے   بغیر تربیت کے تعلیم بیکار ہے .انہوں نے کہا کہ پروفیسر سید رافق زماں ایک عظیم  شخصیت کے مالک تھے  اور ان کا کردار اعلی اور افضل تھا  ایک صلاحیت  ماہر تعلیم . ڈاکٹر اقبال حسین ازاد نے کہا کتاب ارمغان رافق پر  پی ایچ ڈی کا مقالہ  بھی لکھا جا سکتا ہے . آج بوڑھوں کی کھیپ  اردو پڑھتے ہیں نوجوان بچے اس سے نا بلد ہیں .ڈاکٹر صلاح الدین احسن نے کہا کہ مرحوم پروفیسر رافق زماں ہملوگوں کے سرپرست تھے کمینیٹی کو آگے بڑھانے میں پیش پیش رہتے تھے . قوم کے معمار تھے .ڈاکٹر گرودیو پودار نے کہ کہ کہ یہ کتاب نہایت ہی عمدہ اور بہترین کتاب ہے پروفیسر رافق زماں ایک ماہر تعلیم اعلی ظرف تھے دریا دل انسان تھے انے کلیگ اور طالب علموں سے انکا گہرہ رشتہ تھا رفیق صاحب انسانیت کے دوست تھے . ڈیٹی کے پابند تھے . انہوں نے کہا کہ اردو ایک مہزب زبان ہے اس کو قومی زبان کا درجہ ملنا چاہیئے یہ کتاب بہت اچھی ہے میں نے بھی اسکا مطالعہ کیا ہے . ڈاکٹر امتیاز الرحمن نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں .اسلام کو سمجھنے کے لئے اردو کی تعلیم ضروری ہے .مہینہ میں ایک بار ادبی نسشت ہونی چایئے اردو کی بہتر خدمات انجام دینےوالوں کو اعزاز کرام سے نوزا جانا چایہے انہوں نے خو رقم و دیگر طور پر مدد کرنےکا اعلان کیا .ڈاکٹر شاہد رضا جمال نے کہا کہ پروفیسر رافق زماں ایک سائنس ٹکنالوجی کا آدمی تھا اس سے بڑھ کر اردو کے شیدائ تھے اردو کے پروفیسر سے آگے بڑھ کر اردو کے فروغ کے لئے آگے آگے رہتے تھے اردو کی محفل سجایا کرتے تھے . ڈاکٹر حبیب مرشد نے کہا کہ پروفیسر سید رافق زماں مجھے عزیز رکھتے تھے2008تک حلقہ ادب منعقد ہوتی رہے انہوں نے ہی لفظ خادم اردو سرعام کیا . اظہار تشکر مولانا احمد رضا عزیزی نے کیا . ارمغان رافق کتاب ایک  معتبر اور اچھی کتاب ہے اس کا مطالعہ ضرور کریں. اس موقع پر ڈاکٹر فاروق علی ڈاکٹر شاہد رضاجمال ڈاکٹر اقبال حسین آزاد ڈاکٹر صلاح الدین احسن ڈاکٹر امتیاز الرحمن  پروفیسر گرودیو پدار ڈاکٹر حبیب مرشد خان  فیاض حسین  داٶد علی عزیز رضوان خان عین الہدا علاوہ بڑی تعداد میں دانشوران , اردو نواز پروفیسران وغیرہ موجود تھے .