چین قرضوں کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور کاروبار کے لیے آئے ہیں: پاکستانی وزیراعظم

تاثیر۵       جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

اسلام آباد،05 جون: پاکستانیوزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ چین قرضوں کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور کاروبار کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ چینی باشندوں کی ہلاکت کا واقعے پر انتہائی افسوس ہے۔ چینی شہریوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کریں گے۔ یاد رہے کہ شہباز شریف اس وقت پانچ روزہ سرکاری دورے پر اپنے وفد کے ہمراہ چین میں موجود ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ چین قرضوں کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور کاروبار کے لیے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ شہباز شریف وفد کے ہمراہ اس وقت چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں واضح کمی آئی ہے، حکومت کی توجہ اقتصادی اصلاحات پر ہے۔پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی جماعتی انتخابات کروا لیتی تو آج نشستوں والا مسئلہ ہی نہ ہوتا۔وزیراعظم محمد شہبازشریف چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کیانگ کی دعوت پر چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کا دفتر فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف سائفر کا معاملہ بری ہونے والا کیس نہیں تھا۔ سائفر کیس میں عمران خان کا شک کی بنیاد پر بری ہونا پورے عدالتی نظام کا بٹھہ بٹھانے والی بات ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر کو سائفر کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزاؤں کو کالعدم قرار دیا ہے۔بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں ایک کوئلہ کان میں حادثے کے باعث 9 کانکنوں سمیت 11 افراد ہلاک ہوگئے۔سائفر کیس کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘اپنی عدلیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے خلاف جھوٹے مقدّمات جلد از جلد نمٹائے جائیں اور انھیں جیلوں سے رہا کیا جائے۔’پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ چین قرضوں کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور کاروبار کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ چینی باشندوں کی ہلاکت کا واقعے پر انتہائی افسوس ہے۔ چینی شہریوں کو پاکستان میں فول پروف سکیورٹی فراہم کریں گے۔یہ بات وزیر اعظم نے چین مں جاری پاک چائنا بزنس فورم سے خطاب کے دوران کہی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پانچ روزہ سرکاری دورے پر اپنے وفد کے ہمراہ اس وقت چین میں موجود ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘چند ماہ قبل دہشت گردی کا ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں پانچ چینی شہری مارے گئے۔ اس واقعے پر پورا پاکستان رنجیدہ تھا۔ ہر موقع پر اپنے ساتھ موجود رہنے والے چین کے شہریوں کی پاکستان میں سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔’شہباز شریف نے مزید کہا کہ ‘پاکستان کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں، ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری نوجوان افرادی قوت ہے۔ پاکستان میں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بزنس کاونسل قائم کی۔’ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بدعنوانی پر قابو پانے کے موثر اقدامات کر رہا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر ہم ماضی میں رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔ حکومت کی توجہ اقتصادی اصلاحات پر ہے۔چین میں پاک چائنا بزنس فورم سے خطاب کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے تمام معاشی اعشاریے مثبت سمت کی جانب گامزن ہیں۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد ہے۔اس موقع پر تقریب سے حطاب میں وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا پاکستان میں آئی ٹی، زراعت، معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے اقدامات کر رہی ہے۔صوبہ بلوچستان کے اہم سرحدی شہر چمن میں گزشتہ کئی روز سے جاری دھرنے اور ضم شدہ قبائیلی علاقوں کے حقوق سے متعلق آپوزیشن رہنماؤں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی جس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود اچکزئی اور مجلس وحدت المسلمین سے راجہ ناصر عباس جعفری شامل تھے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ضم شدہ علاقوں کے مسائل اور چمن میں جاری دھرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اُن کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ اپنے لوگوں کی ساتھ کئے واعدے پورے نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صرف اور صرف جھوٹے واعدے کرتے ہیں۔’اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا ان علاقوں کے ساتھ روئیہ انتہائی تشویشناک اور تکلیفدہ ہے، اُن کا کہنا تھا کہ ‘یوں لگتا ہے کہ ان علاقوں سے وفاقی حکومت کوئی انتقام لے رہی ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں کے ان لوگوں پر رحم کیا جائے۔’ انھوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود لوگوں کو فیڈریشن کے خلاف اُکسا رہے ہیں، آپ ان علاقوں میں ایک ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں کہ لوگ بغاوت کی جانب جائیں۔’مجلس وحدت المسلمین کے راجہ ناصر عباس جعفری نے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘مُلک میں قانون کی بالادستی نہیں ہے، آئین کی بالادستی نہیں، حکومتی روئیہ اگر یہی رہا تو مُلک میں انتشار کو ہوا ملے گی اور آپ خود ایک طبقے کو دہشت گردی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ آپ تو واعدے کر کے وہ پورے نہیں کرتے۔ جان بوجھ کر ہمیں تقسیم کیا جا رہا ہے، تاکہ لوگ مل کر اپنے حقوق کے لیے بات نہ کر سکیں اور سب اپنے بارے میں سوچیں۔’